سندھ اسمبلی نے وراثتی سرٹیفکیٹ نادرا کے ذریعے جاری کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا

سندھ اسمبلی نے وراثتی سرٹیفکیٹ نادرا کے ذریعے جاری کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا

سندھ اسمبلی نے جمعہ کو اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ’’سندھ لیٹرز اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ ترمیمی بل‘‘ متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

 وزیرِ قانون ضیاء الحسن لنجار نے بل ایوان میں پیش کیا، جس کے تحت وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے۔

بل کی اہم تفصیلات:
پرانا نظام: پہلے یہ سرٹیفکیٹ سیشن جج جاری کرتا تھا۔
نیا نظام: اب نادرا کے ذریعے وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے، جس سے شہریوں کے لیے عمل تیز اور آسان ہو جائے گا۔
اجلاس میں دیگر باتیں:
جماعت اسلامی: رکن محمد فاروق نے جامعہ کراچی کے ای سی سی بی ایس ادارے کی خودمختاری پر اعتراض کیا، اور کہا کہ علیحدہ کرنے سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی / سنی اتحاد کونسل: رکن واجد حسین نے کے ایم سی کے ٹارگٹڈ آپریشنز اور شہریوں سے غیر قانونی رقم طلب کرنے کا ذکر کیا۔
ایم کیو ایم: رکن صابر قائم خانی نے حیدرآباد میں بس سروس بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن: ہر سڑک پر بس سروس کے قیام اور ٹریفک مینجمنٹ میں اصلاحات پر بات کی، اور کہا کہ غلطیوں کے لیے سزا ضروری ہے۔ انہوں نے اراکین کو تجاویز دینے کی کھلی دعوت دی اور آئندہ ماہ ٹیکسی سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا۔
ایم کیو ایم: رکن راشد خان نے صدر مملکت کے حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورس کے سربراہ بننے پر مبارک باد دی۔
اہم نکتہ:
اس بل کے منظور ہونے کے بعد شہریوں کو وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے عدلیہ کے پیچیدہ نظام سے گزرنا نہیں پڑے گا، اور نادرا کے ذریعے یہ عمل زیادہ شفاف اور تیز ہو جائے گا۔