پاک فضائیہ کے شہداء اور ہیروز کو خراج عقیدت، ’’ہم اپنے ہیروز کی عظیم قربانیوں پر انکے شکر گزار ہیں، یہ وہ قربانیاں ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں:سربراہ پاک فضائیہ

   اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ نے دشمن کی عددی برتری کو جذبے، مہارت اور یقین کامل سے شکست دی۔ محسن نقوی نے
 یوم فضائیہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ 7ستمبر کو شاہینوں نے دشمن کا غرور فضاؤں میں پاش پاش کر کے نئی تاریخ رقم کی۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ 1965ء کے شاہینوں کو سلام جنہوں نے فضائی سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا، ایم ایم عالم نے چند لمحوں میں دشمن کے 5 طیارے زمیں بوس کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ 60 برس بعد مئی 2025ء میں بھی پاکستان نے دشمن کا غرور خاک میں ملایا اور معرکہ حق میں دشمن کے 6 جنگی طیاروں کو مار گرا کر تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ جنگ ستمبر 1965  ایم ایم عالم نے سرگودھا کی فضاؤں میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کمال کر دکھایا۔اْنہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے پائلٹس، انجینئرز اور ٹیکنیشنز قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے شاہین قوم کی امیدوں، وقار اور دفاع کی پوری ذمہ داری نبھاتے ہیں، ان سپوتوں کی قربانیوں، غیر متزلزل حوصلے اور بلند عزم پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔اْنہوں نے کہا کہ ان شاہینوں کی بہادری اور قربانی کی ہی بدولت پاکستان کی فضائیں محفوظ ہیں، پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بے مثال خدمات و لازوال قربانیوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر  احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجیز سے مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔ پاک فضائیہ کی جانب سے 7 ستمبر کو ملک بھر کی تمام ایئر بیسز پر یوم شہداء منایا گیا۔ ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں منعقدہ یوم شہداء کی مرکزی تقریب میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دن کا آغاز 1965 اور 1971 کے معارکوں کے دوران شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے والے ان تمام افراد کے لیے خصوصی دعاؤں اور قرآن خوانی سے ہوا، جنہوں نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک اپنے فرائض کی انجام دہی میں لازوال قربانیاں پیش کیں۔ اپنے خطاب کے دوران سربراہ پاک فضائیہ نے ایثار، حوصلہ مندی اور پیشہ ورانہ مہارت کا ذکر کرتے ہوئے ان اوصاف کو پاک فضائیہ کی میراث اور اسکی پہچان قرار دیا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یوم شہداء پاکستان کی مسلح افواج کی غیر معمولی بہادری، بے مثال پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال جذبہء ایثار و قربانی کی علامت ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فضائیہ مکمل یکسوئی سے اپنے مشن کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہے اور ہماوقت تغیر پزیر عالمی سلامتی کے محرکات سے بخوبی آگاہ ہے۔سربراہ کا فضائیہ نے کہا کہ معرکہ حق آپریشن بْنانْ المّرصْوص کے دوران پاک فضائیہ کی جانب سے حاصل کردہ فتوحات کی ایک طویل فہرست نے ایک بار پھر یہ باور کروایا کہ ہم اپنی مکمل قوت ارادی اور عسکری صلاحیتوں کے ساتھ مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔ پاک فضائیہ کے شہداء  اور ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایئر چیف نے کہا کہ ’’ہم اپنے ہیروز کی عظیم قربانیوں پر انکے شکر گزار ہیں، یہ وہ قربانیاں ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اس پروقار موقع پر ہم مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔‘‘ سربراہ پاک فضائیہ نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی جانب سے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد میں انکی غیر متزلزل حمایت کی بھی یقین دہانی کروائی۔ تقریر کے اختتام پر سربراہ پاک فضائیہ نے عالمی سطح پر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امر کی بھی یقین دہانی کراوئی کہ پاک فضائیہ قوم کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے خلائی، الیکٹرانک وارفیئر، سائبر ٹیکنالوجیز، جدید شعبہ جات اور مقامی سطح پر دفاعی پیداوار میں اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ بعد ازاں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور انکے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔