پی ٹی آئی اسلام آباد کا گھیرائو کرنا چاہتی ہے جس کیلئے کے پی حکومت کے تمام وسائل استعمال کئے جا رہے ہیں ‘ریاست کو یرغمال بناکر کسی مطالبے کو نہیں منوایا جاسکتا:مشیر سیاسی امور
دارالحکومت کو پی ٹی آئی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، طالبان کے ساتھ مل کر اسلام آباد پر لشکر کشی نہیں کرنے دیں گے، ایک شخص کی خوشی کیلئے ملک کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں :وزیردفاع
اسلام آباد (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے ذاتی ایجنڈے کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دی جائے، مذاکرات کیلئے حکومت کی جانب سے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر اور سیاسی عدم استحکام کے رویے سے کسی بھی مطالبے کو منوایا نہیں جا سکتا،مذاکرات میں ڈیڈلاک کا باعث بننے والی بات کو غلط پیش کیا جا رہا ہے ،خیبرپختونخوا میں کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے جا رہا، صوبے کے عوام نے لانگ مارچ مسترد کردیا۔بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے بیٹھنے کی بات کرچکے ہیں اور اب تمام معاملات کو حل کیا جانا چاہیے۔رانا ثنا اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی صورت ریاست کو یرغمال بنا کر اور سیاسی عدم استحکام کے رویے سے کسی بھی مطالبے کو منوایا نہیں جا سکتا، پاشا صاحب کے کامیاب تجربے کے بعد پی ٹی آئی کو شناخت ملی، پی ٹی آئی گالم گلوچ اور عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دینے میں کامیاب رہی ہے، اب بھی سوشل میڈیا اور میڈیا پر ایسی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے۔مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی رواداری کو ختم کر دیا گیا، پی ٹی آئی نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر اپنے اس ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے،2014 کے بعد سے پی ٹی آئی اسلام آباد کا گھیرا ئوہمیشہ کرنا چاہتی ہے جس کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کے تمام وسائل استعمال کئے جا رہے ہیں ۔دریں اثنا و وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے گورنر راج کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں، تاہم ہم کوشش کر رہے ہیں اس آخری آپشن پر نہ جائیںدْنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دارالحکومت کو پی ٹی آئی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، طالبان کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پر لشکر کشی نہیں کرنے دیں گے، اسلام آباد کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج لگنے سے پی ٹی آئی سیاسی شہید کہلائے گی یا نہیں، یہ تو وقت بتائے گا، اگر ایک شخص کی خوشی کے لیے ملک کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں تو یہ قبول نہیں ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کے پی حکومت کی لیڈر شپ سے خدانخواستہ علیحدگی کی توقع کی جا سکتی ہے، پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، پی ٹی آئی کے اپنے لوگ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے۔