بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے رانا ثناء اللہ ابھی کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی خواجہ آصف

 شہباز شریف نے  نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفر کی ،پی ٹی آئی والے کہتے ہیں پہلے ملاقات کرائیں، پھر بانی  کو منائیں گے ‘اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کرکے دیکھ لے اس کے بعد د بات کرلیں گے:مشیر سیاسی امور
 سپیکر اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا مجھے علم نہیں ،اپوزیشن جس کسی کو بھی لیڈر بناتی ہے ہم اسے مانیں گے، ہمیں محمود خان اچکزئی  یا کسی بھی فرد پر کوئی اعتراض نہیں  ،میٹنگز میں اپوزیشن کا رویہ الگ نظر آتا ہے:وزیردفاع
اسلام آباد(آئی این پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ  نے کہاہے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ  عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کرکے دیکھ لے اس کے بعد دوبارہ بات کرلیں گے۔ایک انٹرویو میں  رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کا طریقہ کار طے کیا، طریقہ کار طے کیا کہ ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی، ملاقات کے بعد ہلہ گلہ کا ماحول ہوتا ہے، پریس کانفرنس ہوتی ہے، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو طریقہ کار  پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی، ملاقات میں طریقہ کار کی پاسداری کریں، قانون پر عمل کریں تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں، اگر ہائیکورٹ حکم کی جیل حکام پاسداری نہیں کر رہے تو یہ کیوں عدالت نہیں جاتے۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔دریں اثناء وزیر دفاع  خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ  میری ذاتی رائے ہے کہ یہ سب کچھ بات چیت ہی ہے پی ٹی آئی سے، مذاکرات کے حوالے سے ابھی کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ ہائو س کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے حوالے سے ایسی پیشرفت نہیں ہوئی جس پر کہا جائے مذاکرات ہونے والے ہیں یا ہونگے، ہو سکتا ہے میرا علم ناقص ہو لیکن مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف اخباری بیانات تک کی باتیں ہیں، سنجیدہ مذاکرات میرے خیال میں نہیں ہو رہے، اسپیکر اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا مجھے علم نہیں ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یا محمود خان اچکزئی جس نے بھی اپوزیشن لیڈر بننا ہے یہ ان کا اپنا اختیار ہے، یہ اپوزیشن کا اپنا معاملہ ہے اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے، ایک چیز پہلے سے ہی واضح ہے ہمیں اس پر زیادہ تجاوز نہیں کرنا چاہیے، اپوزیشن کا استحقاق ہے وہ اپنی صفوں میں سے کسی ایک کو چنے۔