اپوزیشن کیساتھ مذاکرات اور جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں‘ ان کی صوابدید ہے مذاکرات میں آتے ہیں یا نہیں‘خیبرپختونخوا میں آپریشن جاری رہے گا:رانا ثناء اللہ

 پی ٹی آئی سے مذاکرات کریں وزیراعظم نے  سپیکر قومی اسمبلی کو اجازت دیدی
 مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہوں گے، غیر منتخب رہنماؤں سے بات چیت نہیں کی جائے گی‘ اپوزیشن رضا مند ہوتی ہے تو فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا:پارلیمانی ذرائع
کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حصول  کیلئے  قرضوں کی فراہمی میں ترجیح دی جائے  تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو،نوجوانوں کو انٹرپرنیورشپ کی تربیت فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے:شہبازشریف
برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ترجیح ‘برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ میں  کوتاہی قابل قبول نہیں‘ برآمدات خصوصاً زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جائے:اجلاس میں ہدایات
اسلام آباد (آن لائن)  حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، تاہم ابھی تک اپوزیشن کی جانب سے سپیکر ایاز صادق کے ساتھ باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق، سپیکر نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی ہے اور حکومتی وفد بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن نے ابھی تک اس پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے سپیکر سردار ایاز صادق کو مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے، اور مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہوں گے، غیر منتخب رہنماؤں سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، سپیکر ایاز صادق نے پارلیمانی کمیٹی برقرار رکھی ہوئی ہے، اور اگر اپوزیشن رضا مند ہوتی ہے تو فوری طور پر کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا۔
دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف  نے کہا ہے   کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرضوں کی فراہمی میں ترجیح دی جائے، تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو،نوجوانوں کو انٹرپرنیورشپ کی تربیت فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم  شہبازشریف کی زیرِ صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کاروباری طبقے اور چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سہولت کاری، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے موجودہ نظام پر بھی غور کیا گیا۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل اور موثر بنانے کیلئے  فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ کسانوں کو بروقت مالی معاونت میسر آ سکے۔علاوہ ازیں  شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات کے فروغ پر جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے برآمدات خصوصاً زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔وزیراعظم نے برآمدات میں اضافے اور ایکسپورٹرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں۔اجلاس کو برآمدات میں اضافے کے حوالے حکومتی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی اور جولائی تا دسمبر 2025 تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کئے گئے ۔
دوسرا انٹرولیڈ
اسلام آباد (آئی این پی ) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور  رانا ثنا اللہ نے خیبرپختونخوا حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی  صوبے میں گورنر راج لگانے کا اختیار وفاقی حکومت   کو حاصل ہے اور اس پر بھی پیش رفت ہوسکتی ہے،بات چیت ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوتی ہے، اپوزیشن کی صوابدید ہے کہ وہ مذاکرات میں آتے ہیں یا نہیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  انہوں نے کہا  کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، جو روکا نہیں جائے گا، اگر کے پی حکومت دہشتگردوں کی حمایت میں آئی تو دیگر چیزوں پر غور ہوگا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا اس وقت بھی رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ ۔ عمران خان مذاکرات کے بجائے ملک میں انارکی چاہتے ہیں۔ یہ ایک اور 9 مئی کی تلاش میں ہیں اور اسٹریٹ موومنٹ چلانا چاہتے ہیں۔ یہ پہیہ جام ہڑتال کرنا چاہتے ہیں، لیکن بری طرح ناکام ہوں گے۔انہوں نے کہا اپوزیشن کیساتھ مذاکرات اور جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں‘ ان کی صوابدید ہے  مذاکرات میں آتے ہیں یا نہیں