وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کشیدگی ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں رانا ثناء اللہ

پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے ‘ ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے
افغانستان کی حیثیت ہی نہیں  ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں‘ہمارا مقصد اافغانستان میں دہشتگردی کے مراکز کو ختم کرناہے
لاہور (آئی این پی) سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا ہمیں اس کی سمجھ نہیں ،  وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کشیدگی ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ، پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے ۔ ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے۔ ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ پاکستان کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوشش کر رہا ہے،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے کوششیں  کی،اب بھی جاری ہیں کہ فریقین کیدرمیان بات چیت ہو۔ پاکستان نے ایران پرحملے کی مذمت کی ہے، وزیراعظم نے   بتایا ہے دوسرے اسلامی ممالک سے بھی رابطہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بتایا جا رہا ہے آیت اللہ علی خامنہ ای کو کافی عرصے سے مانیٹر کیا جا رہا تھا،اس میٹنگ کا انتظار کیا جا رہا تھا جس میں ایران کی آدھی قیادت موجود تھی، ہمیں کسی بلاک میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اپنے مفاد کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔ان کا کہناتھا کہ صدرٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں مثبت کردار ادا کیا،جو پاکستان کے حق میں تھا،ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے، پاکستان ڈکلیئرڈ نیوکلیئر ریاست ہے،پاکستان کی طرف آنیکی کسی کی جرات نہیں،پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں،افغانستان کی حیثیت ہی نہیں کہ ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں، افغانستان میں بھارتی اسلحہ آتا ہے،بی ایل اے،کالعدم ٹی ٹی پی بھی موجودہے،ہمارا مقصد افغانستان سے جنگ اور  قبضہ کرنا نہیں۔سینیٹر نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث نہ ہو،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دہشتگردی کا کوئی مرکز نہ ہو،افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز کو ختم کیا جائے گا