ملزموں کو 14 سال بعد سزا سنائی گئی،جعلی اے ٹی ایم کارڈ سے رقم نکلواتے
مشین پرچھوٹے آلات لگا کر کارڈ کی مقناطیسی پٹی ، خفیہ کوڈ چوری کر لیتے تھے
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور کی ایک عدالت نے جعلی اے ٹی ایم کارڈ بنا کر لوگوں کے اکاؤنٹس سے رقم نکالنے میں ملوث خاتون اور اس کے شوہر سمیت 3ملزموں کو جْرم ثابت ہونے پر 30، 30 سال قید کی سزاسنا دی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق لاہور کی رہائشی ملزمہ مدیحہ غفور اور اس کے شوہر وقاص پر جعلی اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے فراڈ کرنے کا جْرم ثابت ہوا ہے۔ دونوں میاں بیوی نے 2011 میں اس جْرم کا ارتکاب کیا تھا ، اب 14 سال بعد جْرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزا سنائی ہے۔خیال رہے کیس کا اندراج 2011 میں ہوا تھا جبکہ مدعی مقدمہ قاضی علی ملک نے پولیس کو درخواست دی کہ ان کے اے ٹی ایم کے ذریعے 1 ماہ کے اندر اندر 8 لاکھ روپے نکالے جا چکے ہیں ،جس کے بعد پولیس نے بینک کے ساتھ مل کر دونوں ملزموں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جبکہ جعلی اے ٹی ایم کارڈ بنانے میں مدد دینے والا گینگ کا تیسرا ملزم بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا ،اسے بھی 30 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ گینگ اے ٹی ایم مشینوں پر چھوٹے آلات لگا کر کارڈ کی مقناطیسی پٹی اور خفیہ کوڈ (پِن نمبر)چوری کر نے کے بعد جعلی کارڈ بنا کر رقم نکلوا لیتے تھے۔