لاہور میں شدید سموگ، ایئر کوالٹی خطرناک حد تک آلودہ، تعلیمی سرگرمیاں معطل۔

لاہور میں شدید سموگ، ایئر کوالٹی خطرناک حد تک آلودہ، تعلیمی سرگرمیاں معطل۔

ویب ڈیسک: پنجاب کے مختلف شہروں خصوصاً لاہور میں سموگ کا مسئلہ شدید ہوگیا ہے، جس سے سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور یہ شہری صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

 لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر ہے، اور ایئر کوالٹی انڈیکس 682 تک پہنچ گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شدت مختلف ہے؛ سید مراتب علی روڈ پر 979، عسکری ٹین میں 919، ڈی ایچ اے میں 600، یو ای ٹی میں 884، غازی روڈ پر 740، اور امریکی قونصلیٹ کے نزدیک 738 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے

کہ لاہور کا درجہ حرارت 21 سے 30 ڈگری کے درمیان رہے گا اور آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان نہیں ہے، جس سے سموگ کی شدت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔سموگ کی بڑی وجوہات میں فیکٹریوں، گاڑیوں اور بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہے، جس میں نائٹروجن آکسائیڈ جیسے زہریلے اجزاء شامل ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ سموگ کی وجہ سے آنکھوں اور گلے کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ایک ماہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔محکمہ ماحولیات کے مطابق لاہور، شیخوپورہ، اور ملتان سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تمام قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اساتذہ گھروں سے آن لائن کام کریں گے۔ سکولوں میں اسپورٹس اور تفریحی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اگلے 10 دن تک سموگ کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔