آزاد جموں و کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی بورڈ نے امیدواروں کے انٹرویوز کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں 45 حلقوں سے 206 سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے، جن میں ہر امیدوار کو 2 سے 3 منٹ کے مختصر سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ انٹرویوز کے دوران امیدواروں سے پارٹی سے وابستگی، عوامی مقبولیت اور سیاسی کارکردگی کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔اجلاس میں شہباز شریف اور مریم نواز کی آزاد کشمیر میں انتخابی مہم میں شرکت پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آئندہ چند روز میں آزاد کشمیر کے مختلف جلسوں میں حصہ لیں گے۔ نواز شریف نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ خود جون کے وسط میں آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور امیدواروں کے لیے انتخابی مہم میں فعال کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ، نواز شریف نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اور مریم نواز کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینے کی ہدایت بھی دی ہے۔
اس ضمن میں، آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی امیر مقام کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران بعض امیدواروں نے گزشتہ پانچ سالہ دور میں نظریہ پاکستان اور تحریک آزادی کو نقصان پہنچنے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ اس پر نواز شریف نے کہا کہ وہ خود کشمیری ہیں اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون میں شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود آ کر اپنے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگیں گے۔
نواز شریف نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، نواز شریف آئندہ 2 سے 3 روز کے اندر مشاورت مکمل کریں گے اور حتمی امیدواروں کی فہرست کا اعلان کریں گے۔ اس پورے عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھرپور تیاری اور سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ حصہ لے رہی ہے۔