چینی صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ پہنچ گئے ہیں، جہاں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی اہلیہ ری سول جو کے ہمراہ ان کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا۔
سرکاری استقبال اور پروٹوکول
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ شی جن پنگ کا 2019 کے بعد پہلا اور دو روزہ سرکاری دورہ ہے۔ سنان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سرخ قالین بچھایا گیا، جبکہ اعزازی فوجی دستے بھی موجود تھے۔ شمالی کوریا کے بچوں نے چینی صدر اور خاتون اول پنگ لی یوان کو پھول پیش کیے۔بعد ازاں کم اِل سنگ اسکوائر میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جہاں فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے اور 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ ہزاروں شہری، طلبہ اور بچے چین اور شمالی کوریا کے پرچم اٹھائے موجود تھے اور دونوں ممالک کی دوستی کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
اعلیٰ سطحی وفد اور مصروفیات
چینی صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے جس میں وزیر خارجہ وانگ ای سمیت دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔ تقریب کے بعد شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کوومسوسان اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس روانہ ہوئے جہاں ان کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔
سفارتی اہمیت اور پس منظر
یہ دورہ 2019 کے دورے سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جب دونوں رہنماؤں کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ اب تک شی جن پنگ اور کم جونگ اُن کے درمیان چھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جبکہ آخری ملاقات گزشتہ سال بیجنگ میں ہوئی تھی۔
جوہری معاملہ اور علاقائی تناؤ
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے حالیہ دنوں میں اپنی جوہری تنصیبات اور میزائل پروگرام سے متعلق سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جسے مبصرین چین کے لیے ایک سفارتی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پیانگ یانگ کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔