حوثیوں کا اسرائیل پر حملہ اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر پابندی

حوثیوں کا اسرائیل پر حملہ اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر پابندی

یمن کے  حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل پر ایک تازہ حملہ کیا ہے اور مقبوضہ جافا (یافا) کے علاقے میں حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

گروپ کی جانب سے اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی اور اسرائیلی اقدامات کے جواب میں کی گئی۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں اسرائیل کے اہم اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔بیان میں حوثی قیادت نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہاز رانی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مفادات سے وابستہ بحری سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔حوثیوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کا جواب مزید سخت اقدامات کی صورت میں دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ “کشیدگی کا جواب کشیدگی سے دیا جائے گا”۔

گروپ نے فلسطین، غزہ، ایران، لبنان اور عراق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان خطوں میں جاری صورتحال اور “محاصرے” کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کا بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر پابندی کا اعلان عالمی تجارتی راستوں اور میری ٹائم سیکیورٹی کے لیے نئے خدشات پیدا کر سکتا ہے۔