ریاض: سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی کمپنی کے ملکیتی تجارتی جہاز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ "اینسیلیا" نامی جہاز بحیرہ احمر سے گزر رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملے نے بروقت صورتحال پر قابو پا لیا اور تمام افراد محفوظ رہے۔رپورٹ میں حملے کی نوعیت یا اس میں استعمال ہونے والے ہتھیار کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سیکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔اس سے قبل یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم سعودی حکام نے اپنے بیان میں حملے کی ذمہ داری کسی گروہ پر عائد نہیں کی۔
بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان آبی راستوں میں حملوں کے واقعات سے عالمی جہاز رانی، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی جہاز پر حملے کی سرکاری تصدیق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اس سے تجارتی جہازوں کی سلامتی اور عالمی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات بھی مزید بڑھ سکتے ہیں۔