روس کا بحیرہ اسود میں یوکرینی حدود کے قریب گندم بردار جہاز پر حملہ، ایک ملاح ہلاک

روس کا بحیرہ اسود میں یوکرینی حدود کے قریب گندم بردار جہاز پر حملہ، ایک ملاح ہلاک

کیف: روس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کی سمندری حدود کے قریب گندم سے لدے ایک غیر ملکی پرچم بردار جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کا ایک ملاح ہلاک ہو گیا۔

یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملے کے بعد متاثرہ جہاز کو شدید نقصان پہنچا جبکہ جہاز پر موجود عملے نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ یوکرین کی بندرگاہی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا جہاز مارا کوئین (Mara Queen) تھا، جو افریقی ملک گنی بساؤ کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔حکام کے مطابق جہاز پر گندم لدی ہوئی تھی اور یہ یوکرینی بندرگاہی علاقے میں موجود تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب روس نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا تھا جن کے بارے میں روسی حکام کا کہنا تھا کہ وہ فوجی سازوسامان کی نقل و حمل میں استعمال ہو رہے تھے۔

واقعے کے بعد یوکرین نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا عالمی تجارت اور خوراک کی ترسیل کے لیے خطرہ ہے۔ماہرین کے مطابق بحیرہ اسود میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر اناج کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، کیونکہ یوکرین دنیا کے بڑے گندم برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔