انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اور دیگر مقدمات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے پولیس کی درخواست پر وکیلِ سرکار کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
پولیس نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمہ کی جیل میں موجود مبینہ وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ سمیت تمام ڈیجیٹل شواہد کو فرانزک تجزیے کے لیے Punjab Forensic Science Agency بھجوایا جائے تاکہ ان کی تصدیق کی جا سکے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تفتیش کے دوران ملزمہ نے ان ریکارڈنگز اور میسجز سے انکار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ اس کی آواز نہیں ہے، اس لیے فرانزک تجزیہ ضروری ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔پولیس کے مطابق کیس میں موجود ڈیجیٹل شواہد میں وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ڈیٹا شامل ہے، جنہیں بطور ثبوت استعمال کیا جا رہا ہے۔
جعلی اکاؤنٹ اور مالی ٹرانزیکشنز کا انکشاف
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کے نام پر لاہور میں ایک جعلی سیلری اکاؤنٹ کھولا گیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق یہ اکاؤنٹ ایک غیر ملکی بینک کی نیو گارڈن لاہور برانچ میں تھا، جہاں ایک کمپنی کے ملازم کے طور پر ملزمہ کو ظاہر کیا گیا۔ تاہم تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ متعلقہ کمپنی کا وجود ہی نہیں تھا اور اکاؤنٹ کھولنے کے لیے جمع کرائے گئے دستاویزات بھی جعلی تھے۔اینٹی نارکوٹکس فورس کی 2019 کی ایف آئی آر نمبر 63/19 کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 6 کروڑ 39 لاکھ روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ریکارڈ ہوئیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب تفتیشی افسر مذکورہ کمپنی کے ایڈریس پر پہنچی تو وہاں ایسی کسی کمپنی کا وجود موجود نہیں تھا۔
قانونی کارروائی
عدالت نے پولیس کی درخواست پر وکیلِ سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت کے لیے کارروائی آگے بڑھا دی ہے، جبکہ کیس کی تفتیش ڈیجیٹل اور مالی شواہد کی بنیاد پر جاری ہے۔