اسلام آباد ہائی کورٹ میں شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ عدالت میں پیش ہوئے۔
انہوں نے کمپنی بند نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ادارے کو فعال رکھنے کے لیے جلد ایک جامع بزنس پلان جمع کرایا جائے گا۔عدالت میں کمپنی ملازمین کی جانب سے علی نواز کھرل، سعد خان اور دیگر نے پیش ہو کر مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کی بندش سے سیکڑوں ملازمین کا روزگار خطرے میں ہے۔وفاقی وزیر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شالیمار کمپنی کو بند کرنا حکومت کی ترجیح نہیں، بلکہ اس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے 70 فیصد شیئرز پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے پاس ہیں، جبکہ دو ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز بھی منتقل کیے جا چکے ہیں۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ کمپنی کو فعال کرنے کا ٹھوس پلان عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے اکاؤنٹنٹ کو بھی کیس میں شامل کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بزنس پلان کا جائزہ لیں۔عدالت نے تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے اور بزنس پلان جلد از جلد جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔