امریکا میں بھارتی جرائم پیشہ گروہ بشنوئی گینگ کے سربراہ لارنس بشنوئی اور اس کے قریبی ساتھی ستندر جیت سنگھ المعروف گولڈی برار پر سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی مبینہ سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2023 میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور اس سازش میں اہم کردار ادا کیا۔فردِ جرم کے مطابق لارنس بشنوئی نے جیل میں قید ہونے کے باوجود مبینہ طور پر اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو ہدایات جاری کیں۔ تفتیشی دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقتول کی تصاویر، نقل و حرکت اور مختلف مقامات کے پتے بھی ساتھیوں کو فراہم کیے گئے تھے۔امریکی اٹارنی بل ایسیلی کے مطابق یہ کارروائی ایک وسیع بین الاقوامی آپریشن کا حصہ ہے، جس کے دوران امریکا، کینیڈا اور یورپی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے 37 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان پر اغوا، بھتہ خوری، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
ایف بی آئی کے مطابق ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس نے امریکی ریاست کیلیفورنیا سمیت مختلف علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ اس کیس میں مزید 10 مطلوب ملزمان کی تلاش جاری ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف ممالک کے اداروں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ 2023 میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد بھارت اور کینیڈا کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، جبکہ اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر بھی خاصی توجہ حاصل کی تھی۔