امریکی ریاست ٹیکساس شدید اور اچانک سیلاب کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جس نے اب تک 104 افراد کی جانیں لے لی ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں دن رات مصروف ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، وسطی اور جنوبی ٹیکساس میں شدید بارشوں نے تباہی مچائی، جس سے بچے، نوجوان اور یوتھ کیمپ کے عملہ متاثر ہوا۔ سب سے زیادہ جانی نقصان کیر کاؤنٹی میں ہوا، جہاں دریا 26 فٹ تک بلند ہو گیا۔سیلاب سے ’کیمپ مسٹک‘ نامی آل گرلز یوتھ کیمپ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں موجود 750 بچیوں میں سے 27 لڑکیاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا، جبکہ کئی بچیاں اب بھی لاپتا ہیں۔ گوادالوپے دریا کا پانی کیبنز کی چھتوں تک پہنچ گیا اور کئی بچیاں سوتے میں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو "100 سالہ تباہی" قرار دے کر میجر ڈیزاسٹر ڈیکلریشن پر دستخط کیے ہیں اور جمعہ کو ٹیکساس کا دورہ بھی کرنے جا رہے ہیں۔ریاستی گورنر گریگ ایبٹ نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ موجود ہے۔
واقعے کے بعد حکومت اور وائٹ ہاؤس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ مقامی افراد نے وارننگ سسٹم کی ناکامی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک متاثرہ ماں نکول ولسن نے آن لائن پٹیشن دائر کی ہے جس میں ریاست سے جدید انتباہی نظام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی کی سنگین مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی، سیلاب اور خشک سالی جیسے سانحات اب زیادہ شدید اور معمول بنتے جا رہے ہیں۔یہ سانحہ نہ صرف ریاستی سطح پر حکومتی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب بھی واضح اشارہ ہے۔