امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلسل بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، جہاں اب تک 119 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 36 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 173 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ریسکیو ٹیمیں شدید موسم کے باوجود تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
صورتحال کی سنگینی:
سیلاب نے درجنوں شہروں اور قصبوں کو متاثر کیا ہے،متعدد سڑکیں، پل اور عمارتیں زیرِ آب آ چکی ہیں،ہزاروں افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی بحران کی عالمی جھلک:
دوسری جانب یورپ میں گرمی کی شدید لہر سے اموات میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔23 جون سے 2 جولائی کے درمیان بارسلونا، میڈرڈ، لندن، میلان سمیت 12 بڑے یورپی شہروں میں درجہ حرارت نے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ دیے۔
یورپی اموات:
1500 سے زائد اموات براہِ راست ماحولیاتی تبدیلی اور ہیٹ ویو کے باعث رپورٹ ہو چکی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تر اموات دل کے امراض، سانس کی تکالیف اور ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ہوئیں۔
اقوام متحدہ اور ماحولیاتی اداروں کی وارننگ:
اقوام متحدہ اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے موسمی خطرات کی واضح مثال ہیں۔اگر کاربن اخراج اور درجہ حرارت میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو دنیا مزید شدید موسمی بحرانوں کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔