ویب ڈیسک: امریکی ریاست ٹیکساس میں شدید طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 28 بچوں سمیت کم از کم 82 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سمر کیمپ میں موجود 10 لڑکیوں اور ایک کونسلر سمیت 41 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش تیزی سے جاری ہے۔
صورتحال کی سنگینی:
کئی علاقوں میں مکانات اور گاڑیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔درختوں کے گرنے سے راستے بند ہو چکے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔سیلابی ریلوں نے متعدد سڑکوں اور پلوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
ریسکیو آپریشن جاری:
ہیلی کاپٹرز، کشتیاں اور ڈرونز کی مدد سے لاپتہ افراد کی تلاش اور پھنسے لوگوں کو نکالنے کا عمل جاری ہے۔متاثرہ علاقوں میں پانی میں پھنسے افراد کو فضائی راستے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
وفاقی سطح پر ہنگامی اقدام:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کے سب سے متاثرہ علاقے کیر کاؤنٹی کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔اس اقدام کے تحت وفاقی امدادی فنڈز اور وسائل کی فراہمی فوری طور پر ممکن بنائی گئی ہے۔
مزید خطرہ برقرار:
محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور اونچی جگہوں پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
جانی نقصان کا اندیشہ بڑھ رہا ہے:
حکام کا کہنا ہے کہ:"جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں امدادی ٹیمیں ابھی تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکیں۔"
پس منظر:
ٹیکساس امریکہ کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں شدید موسم اور طوفانوں کی تاریخی روایات موجود ہیں، مگر اس بار کا سیلاب حالیہ دہائیوں کا بدترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔