وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں زور دیا ہے کہ ملک میں کارکردگی اور احتساب پر مبنی نظامِ حکومت متعارف کرایا جائے تاکہ عوامی خدمات کو بہتر، شفاف اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
اجلاس کی صدارت اور توجہ کا مرکز:
وفاقی وزارتِ خزانہ میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی حکومت کے ڈھانچے کی تنظیم نو سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ:"ایف بی آر پاکستان کے مالیاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور حکومت وزیر اعظم کی قیادت میں اس ادارے کی اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔"
ٹیکس اصلاحات اور مالیاتی خود کفالت:
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ:ایف بی آر کو ایک جدید، مؤثر اور جواب دہ ادارہ بنایا جائے گا۔ٹیکس وصولی بڑھانے سے مالیاتی خودکفالت کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔کارکردگی پر مبنی انسانی وسائل کی پالیسی اختیار کی جائے گی تاکہ سرکاری اخراجات کا ہر روپیہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔
وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ:
اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے اپنی کارکردگی پر بریفنگ دی:
پاور ڈویژن:
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے ڈھانچے، کامیابیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر تفصیلی بریفنگ۔ادارے کو بجلی کے شعبے میں سائنسی انداز میں پیشگوئی، نظام کی بہتری اور بین الشعبہ جاتی ہم آہنگی کے لیے مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔
لا ڈویژن:
ادارہ جاتی استعداد، اختیارات کا دہرا پن ختم کرنے، اور سادہ و مؤثر انتظامی ڈھانچے کی تجاویز پیش کی گئیں۔جاری تنظیمِ نو کی سرگرمیوں کے عوامی پالیسی اور سروس ڈیلیوری پر اثرات کا جائزہ بھی شامل رہا۔
ریونیو ڈویژن سے متعلق اصلاحات:
سلمان احمد (ایمبیسیڈر ایٹ لارج) کی سربراہی میں قائم سب کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں۔
سفارشات میں زور دیا گیا کہ:
انتظامی ڈھانچہ مزید مؤثر بنایا جائے
انسانی وسائل کو بہتر استعمال میں لایا جائے
قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جائے
مرکزی نکات:
کارکردگی پر مبنی طرز حکمرانی
موثر احتسابی نظام
سرکاری اداروں میں سروس ڈیلیوری کا معیار بلند کرنا
ایف بی آر اور دیگر اداروں میں اصلاحات کا واضح روڈ میپ