پی ایچ اے :گھوسٹ ملازمین کی بھرمار

گریٹر اقبال ،خورشید پارک ودیگرپارکس میں سینکڑوں گھوسٹ ملازمین کوتنخواہیں ادا، موبائل ایپ پرحاضری کافیصلہ
لاہور (کرائم رپورٹر )پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی لاہور میں گزشتہ 7سال کے دوران گھوسٹ ملازمین کی تعداد میں مسلسل اضافہ، محکمہ اینٹی کرپشن کی تحقیقات کے مطابق گریٹر اقبال پارک، خورشید پارک ودیگرپارکس میں سینکڑوں گھوسٹ ملازمین کو تنخواہیں جاری کی جاتی رہیں۔ حاضری چیک کرنے کا کوئی مربوط سسٹم نہ ہونے پرقومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔گھوسٹ ملازمین کا پیسہ کون کھاتا رہا؟ یہ سوال ابھی جواب طلب ہیتاہم پی ایچ اے انتظامیہ نے اب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ حاضری کی مانیٹرنگ کیلئے بائیو میٹرک اور جیوٹیگنگ کی مدد سے ہر زون کا سپروائزر مالی ودیگر ملازمین کی تصویر کیساتھ موبائل ایپ پر حاضری اپ لوڈ کرے گا۔اس مقصد کیلئے پی آئی ٹی بی کے تعاون سے موبائل ایپ بنائی گئی ہے۔ پی ایچ اے دفاتر میں افسروں کیلئے بھی بائیو میٹرک حاضری مشینیں لگائی جا رہی ہیں تاکہ ریکارڈ رکھا جا سکے۔ماضی میں پی ایچ اے نینجی کنٹریکٹر کے ذریعے پارکوں میں مالیوں کی فراہمی کا ٹھیکہ دیا جس سے گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی اورتنخواہوں کی مانیٹرنگ مزید مشکل ہو گئی تھی۔ڈی جی پی ایچ اے منصور احمد کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نا صرف گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ ہوگا بلکہ پارکوں کی حالت بھی بہتر بنائی جا سکے گی۔