لاہور (منصورہ):امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی ممکنہ کوشش پر سخت ردعمل دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ "اگر پاکستان میں کسی بھی سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ پاکستانی قوم کی ریڈ لائن ہوگی"۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسی کسی بھی کوشش کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔
اہم نکات:
اسرائیل سے متعلق واضح مؤقف:
حافظ نعیم نے کہا کہ چند پاکستانی وزراء امریکا کی خوشنودی کے لیے اسرائیل سے بات چیت یا اسے تسلیم کرنے کے اشارے دے رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور بچوں و خواتین کی شہادتیں روز کا معمول بن چکی ہیں، مگر عالمی طاقتیں خاموش ہیں۔
بھارت و اسرائیل پر شدید تنقید:
بھارت کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "بھارت اور اسرائیل مل کر قبضے کی پالیسیاں چلا رہے ہیں"۔کشمیر میں بھارتی مظالم پر بھی حافظ نعیم نے سخت مؤقف اختیار کیا، اور کہا کہ پیاز و ٹماٹر کی تجارت نہیں، صرف کشمیر پر بات ہونی چاہیے۔
او آئی سی اور عرب ممالک کی خاموشی:
فلسطینی قتل عام پر عرب دنیا اور او آئی سی کی "مجرمانہ خاموشی" کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں اسرائیل کو روکنے کے لیے واضح دھمکیاں دینی چاہییں۔
ملکی سیاست و معیشت پر تبصرہ:
حافظ نعیم نے کہا کہ جمہوریت کا مذاق بنایا جا رہا ہے، پنجاب و خیبرپختونخوا میں سیٹوں کی بندربانٹ ہو رہی ہے۔بعض جماعتوں کے انتخابی نشان غائب کیے گئے اور ان کے قائدین کو جیلوں میں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ "بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ ایک فریب ہے" – صرف 3 روپے کمی ہوئی، 7 روپے کی بات محض دعویٰ ہے۔ایف بی آر کے 25 ہزار افراد پر قوم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
معاشی و سماجی صورتحال:
تعلیم اور صحت کا برا حال ہے، کسان شدید نقصان میں ہیں، پنشن کے نظام میں کرپشن بڑھ رہی ہے۔حکومت پر الزام لگایا کہ وہ قومی ادارے شہباز شریف اور مریم نواز کے ناموں سے منسوب کر رہی ہے، جو ذاتی تشہیر کا طریقہ ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل:
حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی آئندہ "ایک بڑی سیاسی قوت" بن کر ابھرے گی۔بلدیاتی ادارے عوام سے منتخب نہ کرائے گئے تو یہ غنڈہ گردی ہوگی۔ریاستی اداروں کو لاپتہ شہریوں کی بازیابی یقینی بنانا ہوگی، ورنہ بدعنوانی پھیلے گی۔
نتیجہ:
حافظ نعیم الرحمٰن نے اپنی پریس کانفرنس میں ملکی و بین الاقوامی معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی ممکنہ کوشش کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان کیا، اور حکومت و ریاستی اداروں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے۔