لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت نے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے امن کو تباہ کر دیا ہے، اور اگر پاکستان کسی بھی شکل میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کرے گا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی حمایت دراصل فلسطین اور کشمیر کے عوام کی قربانیوں سے انحراف ہوگی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں کرپشن اور مراعات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، لیکن عوامی مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کر رہیں۔امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ امریکا نے اسرائیل کو قتلِ عام اور بمباری کا لائسنس دے رکھا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ نیا نوآبادیاتی نظام ہے، جس میں فلسطینی عوام مکمل طور پر نظرانداز ہیں۔ انہوں نے فلوٹیلا پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ چار اکتوبر کو لاہور، پانچ اکتوبر کو کراچی اور سات اکتوبر کو ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
انہوں نے دو ریاستی حل کو دھوکہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ عقل و فہم سے حل ہونا چاہیے۔حافظ نعیم نے موجودہ حکومت پر زور دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بجائے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کھل کر اعلان کرے، ورنہ عوام اس پالیسی کو مسترد کریں گے۔