آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانیت کے علمبردار، خدمتِ خلق کی علامت اور رحم دلی کے پیکر عبدالستار ایدھی کا 97واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔
وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلا تفریق رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
زندگی کا آغاز اور خدمت کا سفر
عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء کو بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے اور 1951ء میں ایک چھوٹے کمرے سے فلاحی کاموں کا آغاز کیا۔ ان کی محنت، خلوص اور بے لوث خدمت نے جلد ہی ایدھی فاؤنڈیشن کو دنیا کے سب سے بڑے فلاحی اداروں میں شامل کر دیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن: دکھی انسانیت کا سہارا
ایدھی فاؤنڈیشن کے قیام سے ہزاروں لاوارث بچوں، بے سہارا خواتین اور معذور افراد کو نیا سہارا ملا۔ اس تنظیم نے نہ صرف ایمبولینس سروس فراہم کی بلکہ:
ہسپتال، کلینک اور زچگی مراکز
معذوروں اور لاوارث بچوں کے لیے گھر
یتیم خانے اور پناہ گاہیں
بلڈ بینک اور اسکول
جیسے متعدد فلاحی منصوبے شروع کیے۔
دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس
1997ء میں گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق، ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس قرار دی گئی۔ ایدھی ایمبولینس نے بڑے سانحات سے لے کر چھوٹے حادثات تک متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد فراہم کی، جو آج بھی جاری ہے۔
فیملی کا کردار اور مشن کی وراثت
عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور فلاحی خدمات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بیٹے فیصل ایدھی نے بھی والد کے مشن کو آگے بڑھایا اور سماجی خدمت کا تسلسل برقرار رکھا۔
عبدالستار ایدھی کی رحلت اور قوم کا سوگ
8 جولائی 2016ء کو عبدالستار ایدھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی تدفین قومی اعزاز کے ساتھ کی گئی، مگر ان کے انتقال کے بعد بھی ایدھی فاؤنڈیشن کا مشن جاری ہے۔ لاوارث بچوں، بے گھر افراد اور ضرورت مندوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔عبدالستار ایدھی کا مشن ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ ہم بھی دکھی انسانیت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔