اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) انسانیت کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے، اس پر حاکم نہیں۔
انہوں نے قاہرہ میں اسلامی امور کی سپریم کونسل کی 36 ویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں زور دیا کہ اہم اور اخلاقی فیصلے مکمل طور پر مشینوں پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بلکہ مؤثر انسانی نگرانی لازمی ہے۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ اسلام میں پیشے اور محنت کو بلند مقام حاصل ہے اور نیت، امانت اور مہارت کے ساتھ کیا گیا کام عبادت کے مترادف ہے۔ قرآن کریم محنت، ذمہ داری اور جوابدہی کا واضح تصور دیتا ہے، جبکہ نبی ﷺ نے خود تجارت فرمائی اور حلال کمائی کو افضل قرار دیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسلامی تہذیب علم، طب، حکمرانی، زراعت، صنعت اور تجارت میں اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کی بدولت پروان چڑھی، اور علما، اساتذہ، قضاۃ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور ہنرمند معاشرے کے ستون ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت پیشوں، معیشت اور انسانی تعلقات کو ازسر نو تشکیل دے رہی ہے، اور یہ صحت، تعلیم، تحقیق، حکمرانی اور دینی خدمات میں نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
تاہم AI کے ساتھ اخلاقی خدشات بھی وابستہ ہیں، جیسے روزگار کا خاتمہ، ڈیٹا کا غلط استعمال اور الگورتھمک تعصب، جس سے نمٹنے کے لیے انسانی نگرانی اور مضبوط اخلاقی فریم ورک ضروری ہے۔سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ قرآن کے مطابق کائنات کی قوتیں انسان کے لیے مسخر کی گئی ہیں، ٹیکنالوجی اختیار نہیں بلکہ امانت ہے، اور انسانی وقار کا تقاضا ہے کہ کوئی ٹیکنالوجی عزت، نجی زندگی اور اخلاقی آزادی کو نقصان نہ پہنچائے۔ اسلام مصنوعی ذہانت کے دور میں پیشوں اور انسانی زندگی کے مستقبل کے لیے جامع اخلاقی رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔