ایف بی آر اور آئی بی کے ٹیکس چوری و ذخیرہ اندوزی کیخلاف چھاپے، 178 ارب کی ریکوری‘چینی، کھاد، گندم، جانوروں کی خوراک، مشروبات، خوردنی تیل، تمباکو، سیمنٹ کے شعبے میںکارروائیاں کی گئیں:وزیراعظم کو بریفنگ
وزیراعظم سے اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات گروپ کے سی ای او حاتم داویدار کی قیادت میں پانچ رکنی وفد کی ملاقات‘شہباز شریف کی گروپ کو پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش
صوبوں کی انتظامیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر عوام کیلئے موثر آگاہی مہم جاری رکھے، نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میڈیا پر غیر محفوظ اور کم محفوظ علاقوں کی وضاحت کرے، جہاں پر اونچے، درمیانے اور کم درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے :وزیراعظم
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وزیرِاعظم کو ایف بی آر اور انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف آپریشنز پر رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا انٹیلی جنس بیورو اور ایف بی آر کی مشترکہ کوششوں سے 178 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی۔ وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان اقدامات سے کمپنیوں کے انضمام اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے میں بقایا جات کی مد میں ٹیکس آمدن میں 69 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔انٹیلی جینس بیورو کی جانب سے چینی، جانوروں کی خوراک، مشروبات، خوردنی تیل، تمباکو اور سیمنٹ کے شعبے میں 515 چھاپے مارے گئے، ان کارروائیوں کے نتیجے میں ٹیکس چوری کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 10.5 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔انٹیلی جنس بیورو نے ذخیرہ اندوزی اور اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعی طور پر اضافے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے چینی، کھاد اور گندم کے شعبوں میں 13 ہزار سے زائد آپریشن کیے اور اپریل 2022ء سے اب تک 99 ارب سے زائد کی غیر قانونی طور پر ذخیرہ شدہ اشیاء قبضے میں لیں۔شہباز شریف نے ایف بی آر اور انٹیلی جنس بیورو کی ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے اقدامات کی پذیرائی کی ہے اور کہا ہے ملکی ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کا معاشی استحکام ٹیم کی مشترکہ کوششوں کی بدولت ممکن ہوا، ملک کی معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے بھی سب کو مل کر کام کرنا ہے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات گروپ کو پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے حکومت اس سلسلے میں تمام تر سہولیات فراہم کرے گی جبکہ اتصالات کے سی ای او حاتم داویدار نے یقین دلایا ہے کہ ہم پاکستان میں مستقبل کے لیے طویل مدتی اور کامیاب سرمایہ کاری کے لیے پر عزم ہیں۔:وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات گروپ کے سی ای او حاتم داویدار کی قیادت میں پانچ رکنی وفد نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے اتصالات گروپ کو پاکستانی معیشت کے مختلف سیکٹرز میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اس سلسلے میں تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مابین مشترکہ ثقافت، بھائی چارے اور مذہبی اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں، اماراتی کمپنیاں پاکستانی معیشت میں عرصہ دراز سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اماراتی کمپنیوں سمیت تمام بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کو ملک میں کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔اتصالات کے سی ای او حاتم داویدار نے حالیہ حکومتی سرمایہ دوست پالیسیوں کی بدولت بین الاقوامی کمپنیوں کیلئے پاکستان میں بہتر کاروباری ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ اتصالات گروپ پاکستان میں گزشتہ19سال سے کامیاب سرمایہ کاری کر رہا ہے اور مزید کاروبار اور سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حالیہ بارشوں میں کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے NDMA، ریسکیو اداروں اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی۔وزیرِ اعظم نے دریائے سندھ اور دیگر دریاں سے ملحقہ علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر این ڈی ایم اے، ریسکیو اداروں اور انتظامیہ کو فوری حفاظتی انتظامات و اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے این ڈی ایم اے کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز سے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تعاون مزید مربوط بنانے اور صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی روابط مضبوط کرنے کی ہدایت کر دی۔۔شہباز شریف نے کہا کہ تمام صوبوں کی انتظامیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر عوام کے لیے مثر آگاہی مہم جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میڈیا پر غیر محفوظ اور کم محفوظ علاقوں کی وضاحت کرے، جہاں پر اونچے، درمیانے اور کم درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے تاکہ عوام کو بروقت انتباہ کیا جاسکے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ یقینی بنایا جائے کہ صوبوں کی انتظامیہ کسی بھی صورتحال سے قبل از وقت نمٹنے کے لیے اپنی تیاری مکمل رکھے، این ڈی ایم اے اس امر کو یقینی بنائے۔