پاکستان میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت فروخت ہوتا ہے:ایمل ولی خان

پاکستان میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت فروخت ہوتا ہے:ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما سینیٹر ایمل ولی خان نے سینیٹ قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے اجلاس میں کہا کہ پاکستان میں کئی علاقوں میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت فروخت ہوتا ہے، اور اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

 اجلاس میں یورپی یونین کو باسمتی چاول کی برآمدات کے مسائل پر بھی بحث کی گئی۔حکام فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ 2024 تک یورپی یونین کو 10,300 کھیپ چاول بھیجی جانی ہیں، لیکن 107 کھیپ پر یورپی یونین نے اعتراض اٹھایا۔ ایف آئی اے نے اس بدانتظامی کے خلاف 17 ایف آئی آر درج کی ہیں، جن میں سے 11 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے اعتراض کے بعد چاول کی کھیپ واپس بھیج دی جاتی ہے یا وارننگ جاری کی جاتی ہے۔سینیٹر ایمل ولی خان نے اجلاس میں کہا کہ جب کھیپ اوکے کرکے روانہ کی جاتی ہیں تو پھر فنگس کیوں لگ جاتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پلاسٹک کے چاول بھی بیچے جاتے ہیں۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ عوام جو چاول کھا رہے ہیں، اس کا چیک کرنے کا کوئی میکانزم نہیں ہے۔

سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ پاکستان میں فوڈ سیفٹی کے لیے کوئی جامع پالیسی موجود نہیں ہے، جس پر ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر پالیسی نہیں ہے تو یہ کمیٹی مل کر ایک پالیسی بنائے۔ایمل ولی خان نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بیچے جانے والے دودھ کا 78 فیصد کیمیکل ہوتا ہے، کیونکہ دودھ کی پیداوار بیچنے والی مقدار کا صرف 22 فیصد ہے۔اجلاس میں کمیٹی نے فوڈ سیفٹی سے متعلق پالیسی سازی کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔