بسنت کے تہوار کا آج آخری روز ہے اور شہر بھر میں جشن کا سماں بدستور قائم ہے۔
بچے، نوجوان، بزرگ اور خواتین سبھی پیچ لڑانے اور پتنگیں کاٹنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ لاہور کی سڑکوں، گلیوں اور چھتوں پر بسنت کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔بسنت کے تیسرے روز کے آغاز کے ساتھ ہی تیز ہواؤں نے لاہوریوں کے جوش کو مزید بڑھا دیا، جس کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد اندرون لاہور پہنچ گئی۔ اندرون لاہور کی چھتوں پر دن بھر پتنگوں کے پیچ لگے رہے، جہاں تاجر برادری کی جانب سے بسنت کا بھرپور اہتمام کیا گیا۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے جبکہ روایتی کھانوں اور مٹھائیوں کی تواضع بھی کی گئی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ آج اندرون لاہور کی چھتوں نے ماضی کی بسنت کی یادیں تازہ کر دیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں شہری ایک دوسرے کی تواضع مزے دار کھانوں سے کر رہے ہیں، جبکہ دیگر شہروں اور بیرونِ ملک سے آئے مہمان بھی گڈیاں اڑانے میں پیش پیش نظر آئے۔
لاہوریوں کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانی بھی بسنت منانے میں سرگرم دکھائی دیے۔ امریکا اور لندن سے بڑی تعداد میں اوورسیز پاکستانی لاہور پہنچے۔ اوورسیز پاکستانی بزنس مین خرم بٹ کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں بعد بسنت کا میلہ سجنا خوشی کی بات ہے، جس نے پرانی یادیں تازہ کر دیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے مطابق بسنت نے دوست احباب کے ساتھ محفلیں سجانے اور طویل عرصے بعد گڈیاں اڑانے کا موقع فراہم کیا۔
دوسری جانب بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہر بھر میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس پی ڈولفن اختر نواز نے والڈ سٹی لاہور کا دورہ کیا اور بسنت کے دوران ڈیوٹی پر مامور ڈولفن ٹیموں کی چیکنگ کی۔ ترجمان ڈولفن کے مطابق شہریوں اور نوجوانوں سے ملاقات کے دوران بسنت کے ضابطہ اخلاق سے متعلق آگاہی بھی دی گئی۔
ایس پی ڈولفن اختر نواز نے ہدایت کی کہ ہوائی فائرنگ، آتش بازی اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ والڈ سٹی میں تعینات سیکیورٹی ٹیمیں ہمہ وقت کنٹرول روم سے منسلک رہیں گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔