پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر گالم گلوچ پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں سے زیادہ اہم نہیں۔
گرفتاری اور رہائی
فیصل چوہدری کو اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 کے باہر سے راولپنڈی پولیس نے گرفتار کیا اور چوکی اڈیالہ منتقل کر دیا۔ ان کے ساتھ موجود وکلا بھی پولیس کے ہمراہ گئے، تاہم بعدازاں رہائی کی خبر سامنے آئی۔
جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو
فیصل چوہدری نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:عدالتی حکم کے باوجود انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔انہیں اور دیگر وکلا کو اڈیالہ جیل کے گیٹ پر ڈھائی گھنٹے تحویل میں رکھا گیا۔پولیس اور جیل حکام کے رویے پر سخت تحفظات ہیں۔
عدلیہ اور حکومت پر تنقید
انہوں نے کہا کہ:"میں بانی پی ٹی آئی کی تحریک پر یقین رکھتا ہوں، میرے بولنے سے جو بھی خطرات ہیں، میں ان کی پرواہ نہیں کرتا۔""14 کارکنوں نے جانیں دیں، ہم شہدا کے اہل خانہ پر فخر کرتے ہیں۔""پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ججوں کی نوکریوں کی لوٹ سیل لگی ہے، عدلیہ سو رہی ہے، ہمیں ان سے کوئی توقع نہیں۔""ہمیں فئیر ٹرائل چاہیے، جیل ٹرائل ختم کر کے اوپن کورٹ میں عمران خان کو پیش کیا جائے۔"
پاکستان بار کونسل کا ردعمل
پاکستان بار کونسل نے فیصل چوہدری کو روکنے اور گرفتار کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے انصاف کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا۔ بار کونسل نے وکلا کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی بھی مذمت کی۔یہ معاملہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں مزید بحث چھیڑ سکتا ہے، خاص طور پر وکلا برادری اور عدالتی آزادی کے تناظر میں۔