ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے اغوا ہونے والی لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش ٹھنڈیانی کے گھنے جنگلات سے برآمد کرلی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، مقتولہ گزشتہ روز اپنی سہیلی کے ساتھ ہسپتال سے باہر آئیں، اور اس کے بعد سے لاپتہ تھیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق، ڈاکٹر وردہ اور ان کی سہیلی ردا کے درمیان سونے کے لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔ اسی سلسلے میں، ڈاکٹر وردہ اپنی سہیلی کے ہمراہ سونا لینے کے لیے نکلی تھیں مگر بعد میں گھر واپس نہیں پہنچی۔پولیس نے شبہ کی بنیاد پر سہیلی ردا اور اس کے شوہر کو حراست میں لیا ہے۔ دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ردا نے مبینہ طور پر ڈاکٹر وردہ کو اجرتی قاتلوں کے حوالے کیا تھا۔ پولیس نے ٹھنڈیانی کے جنگلات میں تلاش کے دوران ڈاکٹر وردہ کی لاش برآمد کی ہے۔لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید حقائق پوسٹ مارٹم اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔