ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کے قتل کا کیس اہم پیش رفت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے، اور ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر وردہ بیرون ملک روانگی سے پہلے اپنے پاس موجود 67 تولہ سونے کے بارے میں پریشان تھی۔ ملزمہ رِدا نے اس کا اعتماد حاصل کیا اور اسے اپنے پاس امانتاً رکھوانے پر آمادگی ظاہر کی۔ بعد میں، ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کا سونا گروی رکھوا کر 50 لاکھ روپے بھی حاصل کیے تھے۔پولیس کے مطابق، ڈاکٹر وردہ کے قتل میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں ڈاکٹر وردہ کی ایک دوست بھی شامل ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہارون الرشید کے مطابق، قاتلوں نے ڈاکٹر وردہ کو قتل کر کے اسے ٹھنڈیانی کے قریب دفنایا تھا، اور ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ اسے گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔ اصل وجوہات کا اندازہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ہو سکے گا۔یہ کیس پولیس اور تفتیشی اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی کیس کے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔