کراچی میں میر رضا علی کی قبر کشائی کا عمل شروع کردیا گیا، جہاں مزدوروں کی مدد سے پکی قبر کو کھولا جارہا ہے۔ قبر کشائی کے موقع پر پولیس اور متعلقہ حکام کی موجودگی میں قانونی و طبی کارروائی جاری ہے۔
قبر کھولنے کے بعد میر رضا کی میت باہر نکالی جائے گی، جس کے بعد میڈیکل بورڈ کے ارکان جسم سے ضروری نمونے حاصل کریں گے۔ ڈی این اے ٹیسٹ سمیت دیگر فرانزک تجزیوں کے لیے نمونے محفوظ کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ قبر سے بھی مختلف سیمپلز حاصل کرے گا، جنہیں بعد ازاں فرانزک لیبارٹری بھجوایا جائے گا تاکہ واقعے سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جاسکیں۔قبر کشائی کے موقع پر میر رضا کے والد میر حسین، جوڈیشل مجسٹریٹ، پولیس سرجن اور میڈیکل بورڈ کے ارکان موجود ہیں اور کارروائی کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ میر رضا کی والدہ قبرستان کے باہر قائم ٹینٹ میں موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق میر رضا کے والدین کے ڈی این اے سیمپلز لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم میر رضا کے والد اور والدہ سے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کرے گی۔میر رضا کی بہن کے بھی ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سیمپلز لیے جائیں گے۔ حاصل کیے جانے والے نمونوں کو فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔