کراچی میں میر رضا کے والدین نے تشکیل دیے گئے نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے قبر کشائی کی کارروائی سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث کارروائی مؤخر ہو گئی ہے۔
مجسٹریٹ نے اہل خانہ کو بتایا کہ تفتیشی افسر لکھ کر دینے پر ہی مجسٹریٹ نئی کمیٹی یا پرانی کمیٹی کو بحال کرے گا، جس کے بعد درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔اہل خانہ اور وکیل نے مجسٹریٹ کو نئے بورڈ کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست دی ہے۔ میر رضا کے والدین کا مؤقف ہے کہ وہ پرانے 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں اور رات کے اندھیروں میں بنائے گئے 5 رکنی نئے بورڈ کو نہیں مانتے، کیونکہ یہ تبدیل شدہ اور غیر قانونی ہے۔میر حسن نے کہا کہ رات گئے میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا، اور وہ اس تبدیلی سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس 5 رکنی بورڈ کو تسلیم نہیں کرتے، اور اگر پرانا 8 رکنی بورڈ آتا ہے تو قبر کشائی کے لیے تیار ہیں۔وکلاء اور اہل خانہ نے خط و اعتراضات کے ذریعے نئے بورڈ کی تشکیل کو عدالتی حکم اور سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کے خلاف قرار دیا ہے۔ جبران ناصر، میر رضا کے وکیل، نے پولیس سرجن کو ہنگامی خط لکھ کر نئے بورڈ پر اعتراض کیا ہے، اور کہا ہے کہ اصل عدالتی حکم کے مطابق 8 رکنی بورڈ ہی قانونی ہے۔خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر قانونی بورڈ سے قبر کشائی کی گئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی، کیونکہ اس سے شواہد ضیاع کا خدشہ ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ 8 رکنی بورڈ ہی قانون اور عدالتی حکم کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا۔
جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پولیس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں خامیاں ہیں، اور رات کی تاریکی میں نئی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کرنا قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خول کی برآمدگی اور مناسب تحقیقات کے لیے اصل 8 رکنی بورڈ ہی قابل قبول ہے۔نیا میڈیکل بورڈ اس وقت 5 ارکان پر مشتمل ہے، جبکہ پہلے 8 ارکان تھے۔ سرکاری اراکین میں پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید، شعبہ فرانزک کے پروفیسر ڈاکٹر ذکی الدین، شعبہ پیتھالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین چانگ، اور پولیس سرجن حیدرآباد شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق، اہل خانہ اور وکلا کا مؤقف ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اقدام سے کیس کی شواہد ضائع یا متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور وہ پہلے سے قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔پیش رفت کے مطابق، قبر کشائی کی کارروائی ابھی روک دی گئی ہے، اور قانونی و عدالتی امور کے فیصلے کا انتظار ہے۔