وزیراعظم کا محمد بن سلمان سے رابطہ، ایرانی حملے کی مذمت ‘ سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی(معاشی ٹیم کی ٹیکس تجاویز مسترد، منی بجٹ نہیں آئے گا شہبازشریف

فی الحال کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگے گا ،عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر توجہ رکھی جائے،، کشیدہ صورتحال میں آئی ایم ایف کو ریلیف کیلئے منایا جائے،پاک ترکیہ برادرانہ تعلقات تیزی سے معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں
تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا‘سولر اور دیگر قابل تجدید ذرائع ہی بجلی کے شعبے کا مستقبل ہیں، نیشنل ٹیرف کمیشن میں کیسز کی تاخیر  برداشت نہیں:وزیراعظم‘ ترکیہ کی آئینی عدالت کے  وفد  سے ملاقات
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم کا کہنا تھا پاکستان کی عوام اور حکومت سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیرِ اعظم نے گفتگو کے دوران جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور  سعودی عرب میں الجبیل آئل فسیلیٹی پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی  پاکستان کی حکومت اور عوام ہمیشہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے‘دریں اثناء شہباز شریف نے معاشی ٹیم کی ٹیکس تجاویز مسترد کر تے ہوئے   واضح کیا ہے  منی بجٹ آئے گا نہ سالانہ بجٹ قبل از وقت پیش ہوگا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے معاشی ٹیم نے ٹیکس تجاویز پیش کیں جنہیں وزیراعظم نے مسترد کر دیا اور کہا  فی الحال کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگے گا ،عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر توجہ رکھی جائے۔وزیراعظم نے مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی اور معاشی ٹیم کو ہدایت کی کہ جون سے پہلے نہ ٹیکس اور نہ ہی منی بجٹ لایا جائے۔وزیراعظم نے منی بجٹ کے ذریعے مختلف ٹیکس کی تجاویز مسترد کردیں، مشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے کیلئے تجاویز پیش کی گئیں، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی۔وزیراعظم نے کہا تیل کی عالمی منڈی میں نرخوں سے عوام پریشان ہیں، مزید ٹیکس نہیں لگے گا، کشیدہ صورتحال میں آئی ایم ایف کو ریلیف کیلئے منایا جائے‘وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات تیزی سے جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات تیزی سے جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں، شہریوں کی انصاف تک رسائی کیلئے دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے وفد کے حالیہ دورے کے دوران دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس سمت میں پہلا قدم ہے جبکہ انصاف کی جلد فراہمی کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی تجربات کے تبادلے کی وسیع استعداد موجود ہے‘شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا،سولر اور دیگر قابل تجدید ذرائع ہی بجلی کے شعبے کا مستقبل ہیں۔مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر  بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔شہباز شریف نے بیٹری توانائی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام  تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہی بجلی شعبے کا مستقبل ہیں۔ شہبازشریف نے کہا  نیشنل ٹیرف کمیشن میں کیسز کی تاخیر کسی صورت قابل برداشت نہیں‘کمیشن سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت یقینی بنائے اور قانونی و دیگر پیچیدگیوں سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کرے اور ہدایت کی ہے کہ نیشنل ٹیرف کمیشن سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت یقینی بنائے اور قانونی و دیگر پیچیدگیوں سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کریں‘ نیشنل ٹیرف کمیشن کی افرادی قوت اور عملہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت شدہ ہونا چاہیے۔