وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، وزیراعظم نے سعودی عرب کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا‘ولی عہد کا تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ

 معاشی بہتری کیلئے اصلاحات ناگزیر ‘ مشکل فیصلوں کے نتائج خود بول رہے ہیں شہبازشریف

10 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے،کرنٹ اکائونٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے،چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کودوبارہ درست سمت میں ڈال دیا 
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے  معاشی بہتری اوراصلاحات کوسراہا‘اصلاحات کا سفر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے،ایف بی آر کو پہلی بار کاغذوں سے نکال کر ڈیجیٹائز کیا:وزیراعظم کا تقریب سے ،خطاب
اسلام آباد (آئی این پی ) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے  دس لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے، معاشی بہتری کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں،چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کودوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، ٹیم ورک کے بغیریہ کام ممکن نہیں تھا  ۔وفاقی دارالحکومت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف  نے کہا  کہ آج کا دن صرف اصلاحاتی پروگرام کے آغاز کا نہیں غوروفکر اور عزم کی تجدید کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتدارسنبھالا توہمیں شدید چیلنجزکی شکارمعیشت ورثے میں ملی،معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے،معاشی اصلاحات آسان کام نہیں تھا، چیلنجز کے باجود ہم نے معیشت کو درست سمت میں ڈالا۔وزیراعظم   نے کہا  کہ گزشتہ دو سال میں پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی، 1997 میں ہم نے معاشی پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا کیا،افراط زر تقریبا ً30 فیصد تک پہنچ چکا تھا،زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے، افراط زر 29.2 سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آگیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے، ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب تقریبا 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہوگیا، دس لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دس لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں،2025 میں ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا، پرائیویٹائزیشن جیسے سخت اور ناگزیر فیصلے کیے، پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کامیابی سے مکمل کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بہتری کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں،عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور اصلاحات کو سراہا،حکومت کے مشکل فیصلوں کے نتائج خود بول رہے ہیں،اصلاحات کا سفر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے،ایف بی آر کو پہلی بار کاغذوں سے نکال کر ڈیجیٹائز کیا۔شہبازشریف  نے کہا  کہ 2025میں ٹیکس وصولیوں میں26فیصد اضافہ ہوا ہے، پی آئی اے اورفرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کامیابی سے  مکمل کی گئی، چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کودوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، ٹیم ورک کے بغیریہ کام ممکن نہیں تھا۔انہوں نے  کہا کہ اقتدارسنبھالا تودرپیش چیلنجز کا بخوبی علم تھا، مالی نظم وضبط بحال اورسرکاری مالیاتی نظام کومضبوط بنایا، حکومتی نظام کووسیع پیمانے پر ڈیجیٹل نظام پرمنتقل کیا، عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے  معاشی بہتری اوراصلاحات کوسراہا۔

دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔وزیراعظم آفس کے مطابق بدھ کو وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے امہ کے موجودہ چیلنجز میں امہ کی صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی کی برقرار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ علاقائی مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن اور سلامتی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹیلی فون کال کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور  پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔وزیراعظم آفس کے مطابق محمد بن سلمان نے آئندہ سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا