نجی سینیٹ ارکان کی کارکردگی رپورٹ: بلوں میں کمی، آرڈیننسز میں اضافہ

نجی سینیٹ ارکان کی کارکردگی رپورٹ: بلوں میں کمی، آرڈیننسز میں اضافہ

اسلام آباد:پلڈاٹ نے سینیٹ کی کارکردگی سے متعلق سال 2024-2025 کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی، جس میں سینیٹ کی کارکردگی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق، سینیٹ کے اجلاسوں میں بعض بہتریاں آئیں، تاہم کئی اہم مسائل بدستور موجود ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سینیٹ میں نجی ارکان کے بلوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے، جبکہ حکومتی آرڈیننسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024-2025 کے دوران سینیٹ نے 51 بل پاس کیے، جن میں سے 34 حکومتی اور 17 نجی ارکان کے بل تھے، تاہم نجی ارکان کی قانون سازی میں گزشتہ سال کے مقابلے 63.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ اسی دوران، حکومتی آرڈیننسز کی تعداد 16 تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے ایک آرڈیننس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔سینیٹ اجلاسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، 65 اجلاس منعقد کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں، لیکن کام کے اوقات (گھنٹوں) میں 20.3 فیصد کی کمی آئی ہے۔ کورم کے مسائل بھی برقرار رہے اور 16 اجلاس ارکان کی کم حاضری کی وجہ سے ملتوی کیے گئے۔حاضری کی شرح میں بہتری آئی، اور ارکان کی اوسط حاضری 62 فیصد رہی، تاہم قائد ایوان اسحاق ڈار کی حاضری 28 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ سالوں میں سب سے کم تھی۔ اسحاق ڈار کی کم حاضری کو وزیر خارجہ کی حیثیت میں غیر ملکی دوروں اور دیگر مصروفیات سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ جبکہ قائد حزب اختلاف کی حاضری 80 فیصد رہی۔

سینیٹر سید شبلی فراز سب سے زیادہ بولنے والے سینیٹر کے طور پر سامنے آئے، جنہوں نے 11 گھنٹے اور 26 منٹ کے خطاب کیے۔رپورٹ میں سیاسی واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا کی 11 سینیٹ نشستوں کا خالی رہنا، عدلیہ کی اصلاحات اور فوجی قیادت کی مدت میں توسیع سے متعلق قانون سازی شامل ہیں، جنہوں نے سیاسی تناؤ کو بڑھایا۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بل پر سینیٹ کے صدر نشین کے طرز عمل پر اپوزیشن کی جانب سے شکایات سامنے آئیں، جس سے پروسیجر کے منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھے۔

پلڈاٹ کے تجزیے نے سینیٹ کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار کو اجاگر کیا ہے، جس میں سیاسی محاذ آرائی نے قانون سازی اور طریقہ کار کو متاثر کیا۔ رپورٹ میں سینیٹ میں زیادہ شفافیت، طریقہ کار کی دیانت داری اور جمہوری نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔