وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن اور سائبر کرائمز کے خلاف مؤثر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
ان ہدایات کے تحت، انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے (وفاقی تحقیقاتی ادارہ) رفعت مختار کو غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ایک موثر حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ ملاقات وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار کے درمیان ہوئی، جس میں دیگر حکومتی افسران جیسے کہ نو تعینات ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) وقار الدین سید، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، اور وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا بھی موجود تھے۔محسن نقوی نے اس ملاقات میں واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد معصوم لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں گی اور اسمگلنگ مافیا کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
سائبر سکیورٹی کو ایک نیا اور بڑھتا ہوا چیلنج قرار دیتے ہوئے، وزیرِ داخلہ نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے افسران کو بیرون ملک تربیت دینے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔وزیرِ داخلہ کی یہ ہدایات پاکستان میں سائبر کرائمز اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل کے تدارک کے لیے ایک اہم قدم ہیں، جو نہ صرف ملک کے اندرونی سیکیورٹی کو بہتر بنانے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی مستحکم کریں گے۔