کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب

کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب

فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی کراچی ایئرپورٹ پر کامیاب کارروائی کے نتیجے میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔

کارروائی کی تفصیلات
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، کراچی ایئرپورٹ پر سینیگال سے براستہ ایتھوپیا آنے والے ایک پاکستانی مسافر، محمد عثمان عمر، کو روک کر اس سے تفتیش کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا کہ مذکورہ مسافر گزشتہ سال لاہور ایئرپورٹ سے وزٹ ویزے پر سینیگال گیا تھا اور وہاں سے غیر قانونی طریقے سے اسپین جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

اسمگلنگ نیٹ ورک کا طریقہ کار
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ محمد عثمان عمر یورپ جانے کے لیے چوہدری تیمور نامی ایجنٹ سے رابطے میں تھا، جس نے اسے 25 لاکھ روپے کے عوض اسپین پہنچانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔مسافر کے والد نے سینیگال پہنچنے پر ایجنٹ کو 25 لاکھ روپے ادا کیے۔ایجنٹ نے پہلے قانونی فضائی سفر کے ذریعے اسپین بھیجنے کا وعدہ کیا، مگر بعد میں دھوکہ دہی کرتے ہوئے مسافر کا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔بعد ازاں ایجنٹ نے سمندری راستے کے ذریعے یورپ بھجوانے کی کوشش کی، تاہم مسافر نے انکار کر دیا۔ایجنٹ نے جعلی اسٹیمپ لگا کر مسافر کو غیر قانونی طریقے سے یورپ بھیجنے کی کوشش کی، مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔مسافر کو سینیگال میں 4 ماہ تک سیف ہاؤسز میں رکھا گیا، جہاں مزید 13 پاکستانی بھی موجود تھے۔
مزید انکشافات
تفتیش کے دوران محمد عثمان عمر نے مزید انکشافات کیے:سید ضمیر شاہ نامی ایجنٹ ترکی میں غیر قانونی سفر کے انتظامات کرتا ہے۔حاجی مرزا احسن بیگ، موریطانیہ کی سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
ایف آئی اے کی کارروائیاں
ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون کا کہنا ہے کہ:غیر قانونی سفری دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے گی۔انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور بیرون ملک قانونی راستے سے سفر کریں۔
ایف آئی اے نے محمد عثمان عمر سے مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔