ایم کیو ایم اور لیگی وفاقی وزرا فارم 47 کی پیداوار ہیں، شرجیل میمن

ایم کیو ایم اور لیگی وفاقی وزرا فارم 47 کی پیداوار ہیں، شرجیل میمن

کراچی: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفاقی وزرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ فارم 47 کی پیداوار ہیں۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین نے تمام ہائی ویز پر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے متعلق قرارداد پیش کی۔قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ملک کی تمام ہائی ویز وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، اس لیے ایم کیو ایم کے ارکان کو چاہیے کہ وہ اپنے وفاقی نمائندوں سے کہیں کہ اس معاملے کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں۔سینئر صوبائی وزیر نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے کہا کہ اس ترمیم کے بعد صوبے خودمختار ہوئے اور انہیں مختلف شعبوں میں اختیارات حاصل ہوئے۔ انہوں نے وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور مصطفیٰ کمال کو اٹھارویں ترمیم کے خلاف بیانات دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔شرجیل میمن نے کہا کہ جناح اسپتال پہلے وفاق کے پاس تھا، تاہم آج جناح اسپتال اور این آئی سی وی ڈی میں ملک بھر سے لوگ علاج کروا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں صوبوں کی پیش رفت اٹھارویں ترمیم کے فوائد کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفاقی وزرا فارم 47 کی پیداوار ہیں اور حقیقی عوامی نمائندے نہیں۔ وفاقی وزرا کو چاہیے کہ وہ پہلے اٹھارویں ترمیم کے فوائد اور اس کے نتیجے میں صوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

توانائی کے حوالے سے شرجیل میمن نے بتایا کہ تھر سے ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہورہی ہے، جو صرف سندھ یا کسی ایک شہر کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ہے اور نیشنل گرڈ میں شامل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وسائل سے پیدا ہونے والی توانائی سے پورا ملک فائدہ اٹھا رہا ہے۔سینئر وزیر نے کہا کہ صحت، تعلیم اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں بھی سندھ نے اٹھارویں ترمیم کے بعد نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ سکھر جیسے شہروں میں یونیورسٹیز اور جدید طبی سہولیات قائم کی گئی ہیں۔وفاقی وزرا کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ اگر اٹھارویں ترمیم یا صوبوں کے اختیارات پر کوئی اعتراض ہے تو وفاقی وزرا پارلیمنٹ میں آکر اپنا مؤقف پیش کریں۔ سندھ اسمبلی میں موجود نمائندے ہر بات کا آئینی، قانونی اور اعداد و شمار کی بنیاد پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے وفاقی وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے عوام کے درمیان جائیں اور عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہوکر آئیں، پھر قوم کے فیصلوں پر بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے لوگ قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے۔

صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کا معاملہ
اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے توجہ دلائی کہ ساڑھے 4 ماہ سے بعض پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی شہریوں کی فوری رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر احتجاج کرنے والے افراد کو آج پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

سندھ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اسپیکر کا اظہارِ تشویش
اجلاس کے دوران اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے سندھ میں بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت سے اس معاملے پر بات کی جائے اور اسے خط بھی لکھا جائے۔اسپیکر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صرف سندھ کے خلاف بات کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان کو طلب کرنے کی بھی ہدایت کی۔بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔