شرجیل میمن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ہر وقت پاکستان پیپلز پارٹی سے مدد مانگتی ہے، جبکہ وفاقی وزرا سندھ حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور کراچی میں میگا پراجیکٹس تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرا رہی ہے اور سندھ الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہو چکی ہے، جبکہ کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنے کے اہم فیصلے کیے گئے۔ تاجروں کو 10 دن کے اندر آن لائن سہولتیں دینے کا عمل جاری ہے۔امن و امان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ یکم جنوری سے اب تک پولیس نے 120 مقابلے کیے، جن میں 28 ڈاکو مارے گئے اور 56 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جبکہ 18 مغوی بازیاب کرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ کے اضلاع اور ہائی ویز پر صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک افواج دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑ رہی ہیں اور کوہاٹ میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی علاج کا مرکز بن چکا ہے، جگر کی پیوندکاری سمیت جدید سہولیات اب سندھ میں دستیاب ہیں اور ہدف یہ ہے کہ کوئی شہری علاج کے لیے بیرون ملک نہ جائے۔شرجیل میمن نے مزید کہا کہ تھرپارکر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں اور وہاں ریلوے لائن بھی بچھائی جا رہی ہے۔ شاہراہ بھٹو کی تکمیل قریب ہے اور اپریل کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں اس کا افتتاح متوقع ہے۔انہوں نے فاروق ستار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گل پلازا کمیشن کے معاملے پر جج کے خلاف جھوٹ بول رہے تھے۔