۔محمد افضل شاہد
مجھے میرے محکمہ (پاکستان سول ایوی ایشن ) کے بہت ہی پیارے دوست اور ساتھی توصیف علی حیدر جو کہ مونٹریال میں کینیڈین ایوی ایشن میں ایک بہت ہی اچھی پوسٹ پر عرصہ پچیس سال سے کام کر رہیے ہیں ،کی دعوت پر ٹورنٹو سے مونٹریال کا خوبصورت سفر کرنے کا موقع ملا،
راستہ کافی لمبا ہیے جو کہ تقریبا ساڑھے چھ سو کلومیٹر( 650 KM) کے قریب ہیے۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یہاں ایکسپریس وے پر زیادہ سے زیادہ رفتار 100 کلو میٹر ہوتی ہیے۔ یہ فاضلہ ہم نے تقریباً سات گھنٹے میں طے کیا،
روڈ اچھا ہونے اور روڈ کے ساتھ قدرتی حسن جنگلات کے ساتھ ساتھ کینیڈا کی خوبصورتی کو دیکھنے اور محظوظ ہونے کا بھی موقع ملا۔
کینیڈا کے بارے میں اگر گوگل۔کیا جائیے تو پتہ چلتا ہیے کہ کینیڈا پوری دنیا کے میٹھے پانی( قدرتی چھیلوں) کے ستر فیصد حصے پر مشتمل ہیے، یہاں کی جھیلیں ،سمندروں کی طرح بڑی بڑی ہیں جن میں بڑے بڑے بحری جہاز چلتے ہیں۔ ،جہازوں کے ذریعے باقاعدہ تجارت ہوتی ہیے، پورے کینیڈا میں قدرتی میٹھے پانی کی جھیلوں کی کل تعداد 623 کے لگ بھگ ہیے جو کہ مجموعی طور پر 880,000 لاکھ ایکڑوں سے زیادہ ہیے ،یہاں ساری کی ساری جھیلوں کا ذکر ممکن نہیں لیکن چند ایک کے بارے میں ضرور لکھوں گا۔بڑی بڑی قدرتی جھیلوں میں سے ،چند کے نام یہ ہیں‘حورون لیک Huron Lake) Ontario ) ( یہ لیک امریکہ اور کینیڈا کے بارڈر کے ساتھ ساتھ چلتی ہیے۔) ،
لیک انٹاریو( انٹاریو میں)
lake Ontario،یہ بھی امریکہ اور کینیڈا کے بارڈر کے ساتھ ساتھ چلتی ہیے ،اس لیک کو وہ حصہ جو امریکہ میں واقع ہیے اس کا نام ابھی کچھ عرصہ پہلے امریکہ نے لیک امریکہ رکھا ہیے )گریٹ بئیر لیک ( نارتھ ویسٹ ٹیرایٹوری) گریٹ سلییوو لیک ( نارتھ ویسٹ ٹراٹیری)
سپیرئیر لیک ( انٹاریو) لیک ایرائے ، ( انٹاریو)لیک وینیپگ ( مینیٹوبا)
اس کے علاوہ کینیڈا دنیا میں رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک اور آبادی کے لحاظ سے 28 ویں نمبر ہیے۔کینیڈا کی قدرتی وسائل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہاں کے تقریبا اڑتیس سے 40 فیصد )38% to
40% حصے پر جنگلات ہیں .جنگلات کا کل رقبہ 3.69 ملین کلومیٹر۔Forests cover about 38% to 40% of جو کہ دنیا کے جنگلات کا تقریبا 9 فیصد ہیے۔اس میں سے تقریبا نوے فیصد ایریاز کے جنگلات گورنمنٹ کی ملکیت ہیں۔جبکہ6 فیصد پبلک اور 4 فیصد فیڈرل گورنمنٹ کا ہیے۔ کینیڈا جنگلات کے حساب سے تیسرا بڑا ملک ہیے جو کہ روس اور برازیل کے بعد سب سے بڑا رقبہ جنگلات پر مشتمل ہیے۔ یہاں کی گورنمنٹ نے ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا ہوا ہیے۔وقفے وقفے سے چھوٹے چھوٹے خوبصورت قصبے ہیں جن کے درمیان جنگل ان کی خوبصورتی کو مزید قابل دید بناتے ہیں۔ہر علاقے کا اپنا پانی کا ذخیرہ کرنے کی جگہیں ہیں جسے واٹر رزروائیر ( Water reservoir ) کہتے ہیں۔جو کہ بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطع کو بھی کم نہیں ہونے دیتے۔، یہاں جھیلوں ،سڑک کے اطراف ،جنگل نہائیت صاف ستھرے ہیں کوئی بھی یہاں کوڑا کرکٹ یا گند نہیں پھیلاتا بلکہ چھوٹے موٹے کاغذ، ، کھانے پینے کی چیزوں کی کوئی اکا دکا ریپرز کو بھی اٹھا کر جگہ جگہ رکھے گئیے کچرے کے ڈبوں میں ڈالتے ہیں کوئی اسے عار ہیں سمجھتا۔جبکہ ہم پاکستانی کسی دریا ،جھیل کے کنارے دیکھیں تو کاغذ ،کھانے پینے کی بچی کھچی چیزیں، حتمی بچوں کے پیپرز تک اس جگہ کی خوبصورتی ور حسن کا منہ چڑھا رہیے ہوتے ہیں۔یہ کسی نے نہیں سیکھانا یہ تو ہمیں خود شعور آنا چاہئیے اور ایک مہذب قوم ہونے کا ثبوت دینا چاھئیے۔ایک اور چیز یہاں پر بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مونٹریال کینیڈا کے پرونس کیوبیک (Quebec Provence )میں آتا ہیے۔ اور ٹورنٹو اونٹاریو Ontario میں اور یہاں یہ بھی فرق ہیے کہ یہاں پر زیادہ تر بورڈ سائین بورڈ اور ٹریفک انسٹریکشنز فرینچ ( French)میں لکھے ہوتے ہیں۔۔گو کہ فرینچ اور انگلش دونوں یہاں کی آفیشل زبانیں ہیں لیکن انٹاریو Ontario, میں فرینچ اتنی زیادہ استمال نہیں ہوتی۔فرینچ کے استعمال کی بنیادی وجہ یہ ہیے کینیڈا کافی عرصہ تک فرانس کے زیر تسلط بھی رہا ہیے۔بعد میں اس پر انگلینڈ کا قبضہ ہوگیا اور یہ انگلینڈ کی ایک کالونی کے طور پر رہا اسی لئیے یہاں پر بہت سارے شہروں اور روڈز کے نام ابھی تک انگلینڈ کی مناسبت سے ہیں۔اور ملکہ الزبتھ یہاں کی بھی کوئین مانی جاتی ہیے۔سوموار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے لانگ ویک اینڈ (Long weekend) تھا لہذا ہم نے جمعہ کو ہی صبح جلدی نکلنے کا پروگرام بنایا۔
راستے میں ایک جگہ جسے ایپل پائیے کہتے ہیں رکے وہاں ایک بہت بڑا سیب بنا ہوا ہیے۔بچوں اور بڑوں کے گھومنے کیلئیے کافی بڑی پارک ہیے جہاں چڑیا گھر اور فریش پھلوں کی ایک مارکیٹ ہیے۔اپ ساتھ والے باغ سے قیمتاً سیب وغیرہ توڑ سکتے ہیں۔وہاں بہت بڑا شاپنگ مال اور بیکری ہیے جہاں پر ساری چیزیں مثلآ بسکٹس،کیک،میٹھائی،وغیرہ سب سیب کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔۔
کوئی ایک گھنٹے کی مزید مسافت پر بہت ہی خوبصورت اور مشہور شہر کنگسٹنKingston ہیے۔وہاں پر روڈ کے ساتھ ہی مسلم کیمونٹی سینٹر ہیے جہاں آپ رک کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ہم نے نماز جمعہ بھی وہاں ادا کی، وہاں پر ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی بھی ہیے جس میں پوری دنیا سے لوگ پڑھنے آتے ہیں۔ایک بہت ہی اچھا انٹرنیشنل ائیر پورٹ بھی ہیے۔مزید ایک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر سٹی آف 1000 آئی لینڈز ہیے جہاں سے امریکہ کو جانے کے لئیے ایک پل بھی ہیے۔جہاں سے آپ امریکہ بھی جاسکتے ہیں۔۔یہاں پر چھوٹی بڑی تقریبا 1000 کے قریب آئی لینڈز ہیں بعض اتنی چھوٹی آئی لینڈ ہیں کہ ان۔پر ہمیں ایک گھر بھی نظر ایا۔کسی جگہ تین چار گھر بھی دیکھے گئیے۔ان لوگوں نے اپنی اپنی بوٹس رکھی ہوئی ہیں۔ جن پر وہ اپنے گھر یا اس آئی لینڈ پر آتے جاتے ہیں۔۔
.راستے میں بہت ہی رنگ برنگے درخت پھل۔پھول نظر آئیے۔جو جو رنگ آپ کسی سینری یا کسی خوبصورت پینٹنگز میں دیکھ سکتے ہیں وہ سارے رنگ کینیڈا میں اپکو قدرتی طور ستمبر اور اکتوبر میں ملیں گے۔سفر بہت ہی خوش گوار اور یادگار رہا۔
مانٹریال میں ہمارے دوست نے فیملی کے ساتھ استقبال۔کیا۔اور ہم نے مونٹریال میں تین دن قیام۔کے دوران۔موٹریال میں بہت سے مقامات کی سیر کی۔جن میں mount Royals، جہاں سے پورے مونٹریال کے ڈاؤن ٹاؤن کا نظارہ کیا جاسکتا ہیے۔شاید
مونٹریال کا نام بھی اس مونٹ ریال کے نام سے ہو
۔وہاں سے saint Joseph گئے،جو یہاں کا نہایت مذہبی چرچ ہیے، بہت ہی بلندی پر ہیے۔یہاں سے پورے شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہیے۔اس سے ملحقہ ایک میوزیم بھی ہیے،
اس کے علاوہ ڈاؤن ٹاؤن اور لیک کی طرف بھی گئے۔وہاں پر ایک ایگریکلچر فارم بھی گئے جہاں پر ہر قسم۔کے پھل اور پھول آپ خود توڑ بھی سکتے ہیں اور وہاں شاپ سے خرید بھی سکتے ہیں۔
ڈاون ٹاؤن جو کہ بہت ہی خوبصورتی سے نئیے اور پرانے مونٹریال کا امتزاج ہیے ،کہیں بڑی بڑی جدید بلڈنگز اور کہیں ساتھ ہی پرانی اور تاریخی عمارتیں اپنے دور کی تاریخ بتاتی ہیں۔۔
بہت ہی خوبصورتی سے مونٹریال مونومنٹ ( Montreal monument )یعنی یہ سرکل۔کو دو بلڈنگز کے درمیان نصب کیا گیا ہیے۔جو کہ مونٹریال کی ایک بہت ہی اہم جگہ ہیے ، وہاں پر بیٹھنے کا اور صفائی کا بہت اچھا انتظام ہیے لوگ بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ڈون ٹاؤن میں فوڈ اسٹریٹ پر بیٹھے ملکی اور غیر ملکی سیاح مختلف کھانوں سے لطف اندوز ہو رہیے تھے، ساتھ ہی کہیں کہیں میوزک اور ڈانس بھی چل رہا تھا۔جھیل کے کنارے پر ایک وہیل چئیر پر بیٹھے ہوئیے ادمی نے فارسی گانے اور دھمنیں لگائی ہوئی تھیں اور ان پر پرفارم کر رہا تھا۔
روڈز کے درمیان میں الیکٹرک ٹرام طرز کی ٹرین ( کسی زمانے میں اسی طرح کی ٹرام۔کراچی کی روڈز پر بھی چلتی تھی ) بھی چل رہی تھی۔
ڈون ٹاؤن میں موجود جھیل کے کنارے پر آنے جانے والی چھوٹی بڑی کشتیوں اور بیٹھنے کے لئیے جگہ جگہ رکھے ہوئیے بنچوں پر سیاح بیٹھے نظر آتے ہیں جو کہ بڑی بڑی بلڈنگز سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔
یہاں کسی کو کوئی جلدی نہیں ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی، صفائی کا خاص خیال اور پارکنگ اپنی مخصوص جگہ پر ایک مہذب اور بڑھے لکھے معاشرے کی نشان دہہی کرتی ہوئی اقدار ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں ایسا کیوں نہیں کرتے۔
مونٹریال کی ایک بہت ہی مشہور
انگلش ذریعہ تعلیم کی یونیورسٹی میک گل Mc Gill بھی اس جگہ پر ہیے۔چونکہ توصیف کے بچوں نے یہاں سے تعلیم حاصل۔کی ہیے انہوں نے ہمیں اپنی یونیورسٹی کی سیر بھی کروائی اور اس کی تاریخ کے بارے میں بھی بتایا۔
میں چونکہ ایوی ایشن سے تعلق رکھتا ہوں تو مونٹریال میں پوری دنیا کی ایوی ایشن کو کنٹرول کرنے کے لئیے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن( ICAO) کا آفس بھی ہیے لہٰذا مجھے وہاں جانے کا بھی شوق تھا۔۔وہاںICAO آفس کے سامنے تصاویر بھی بنوائیں۔میں چونکہ پاکستان ائیر ٹریفک کنٹرولز گلڈ کے بانی ساتھیوں میں سے ہوں اور ائیر ٹریفک کنٹرولزز گلڈ کو انٹرنیشل فیڈریشن آف ائیر ٹریفک کنٹرولرز ایسوسی ( IFATCA) کے ساتھ الحاق کرنے اور رجسٹریشن کا شرف بھی مجھے ہی حاصل ہیے اس لئیے IFATCA آفس کو بھی دیکھا اور دلی خوشی ہوئی۔
مونٹریال دنیا کی ایوی ایشن انڈسٹری کا گڑھ ہیے یہاں پر تمام بڑی بڑی ائیر ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز اور انڈسٹریز اور ان کے افسز ہیں اس لئیے مونٹریال خاص طور پر ایوی ایشن کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے اشخاص کے لئیے خاص اہمیت رکھتا ہیے۔بہت ہی اچھا اور خوبصورت سفر تھا جس سے بہت لطف اندوز ہوئیے اور خاص طور پر توصیف علی حیدر کی مہمان نوازی نے اس سفر کو مزید چار چاند لگا دئیے۔
ؤ