محمد افضل شاہد
میرے رشتہ دار کے بچوں آنس طارق اور منیب طارق نے ہفتہ ( ویک اینڈ ) پر اونٹاریو لیک ( Lake Ontario)کے لئیے ایک پرائیویٹ فیری کا بندوبست کیا جو کہ شام پانچ بجے کا پروگرام تھا۔شام کا وقت اس لئیے رکھا گیا تھا کہ لیک اونٹاریو سے سورج کے غروب ہونے کاخوبصورت منظر اور رات کے وقت ڈاؤن ٹاؤن کا منظر دیکھا جا سکے۔
ہمارے پاس چونکہ وقت بھی تھا اور موسم بھی تھا اس لئیے راستے میں یک چھوٹی ندی جو لیک انٹاریو سے ہی نکلتی ہیے جانے کا پروگرام بنایا ، جہاں پر سپتمبر کے درمیاں سے لے کر نومبر کے درمیاں تھا فریش پانی کی مچھلیاں جو کہ اس بڑی جھیل سے پانی کے بہاؤ کے ساتھ اس ندی میں آ جاتی ہیں اور اس موسم میں قدرتی طور پر یہ مچھلیاں پانے کے مخالف سمت میں اپنی پیدائیش والے ساحل / پانی کی طرف جانا شروع کرتی ہیں اور اپنی پیدائیش کی جگہ پر جا کر انڈر دیتی ہیں۔۔پانی کا بہاؤ کافی تیز ہوتا ہیے مختلف جگہوں پر بنے ڈیم اور پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئیے بنی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئیے یہ مچھلیاں قدرتی طور پر اپنے منزل کی طرف جانے کی کوشش کرتی ہیں۔
گوگل کے مطابقظ ایک مچھلیوں کی بار بار کی کوشش کو کہتے ہیں جب یہ مچھلیاں اپنی پیدائیش کے وقت پانی کے بہاؤ کے ساتھ دریاؤں یا ندیوں میں بہہ جاتی ہیے کچھ کا شکار کر لیا جاتا ہیے کچھ بچ جاتی ہیں جو بچ جاتی ہیں وہ اپنی نسل کو آگے بڑھانے کے لئیے اس موسم میں پانی کی الٹی طرف اپ اسٹریم بہت ساری رکاوٹوں کے باوجود سفر کرتی ہیں۔اس ندی کے کنارے سے ایک چھوٹے ڈیم پر مچھلیوں کی اوپر چڑھے کی بار بار کی کوشش دیکھنے بہت سے لوگ آتے ہیں۔مچھلیوں کو دیکھ کر آدمی کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہیے۔اور بار بار کی ناکامی کے باوجود وہ کوشش نہیں چھوڑتییں اور آخر کامیاب ہو جاتی ہیں۔۔جب بھی کوئی مچھلی بار بار کوشش کے بعد اوپر چڑھتی تو لوگ اس کی ہمت کی تالیاں بجا کر داد دیتے۔کافی دیر ان مچھلیوں کی ہمت اور کوشش کا نظارہ دیکھ کر واقعی حوصلہ بڑھتا ہیے۔اور ناکامی کا خود ختم۔ہو جاتا ہیے۔مطلب جب تک کامیابی نا مل جائیے۔ہمارے گھر سے لیک اونٹاریو ڈون ٹاؤن کا فاضلہ کوئی ایک گھنٹہ تیس منٹ ( 1:30)کا تھا .فئیری والے کے بتائیے گئیے وقت اور جگہ پر پہنچ کر فئیری والے کا انتظار کیا۔وقت مقررہ پر ایک خوبصورت فئیری آئی جس میں اندر بیٹھنے کی جگہ کے ساتھ ساتھ اوپر ڈیک پر اور فرنٹ پر کھلی جگہ بھی تھی، فئیری کا اپنا میوزک سسٹم تھا، فئیری پر بیٹھنے کے بعد ہم۔کھلی جھیل کی طرف گئیے جہاں پر ایک خوبصورت ریت والا ساحل تھا جہاں پر قدرے پانی کی گہرائی کم تھی وہاں پر بچوں نے نہانے کے لئیے پانی میں چھلانگیں لگائیں، فئیری وہاں پر پانی میں کھڑی رہی اور ہم سب بڑے بزرگ فیری میں سے ہی خوبصورت نظارہ کرتے رہیے ٹورونٹو ڈاؤن ٹاؤن کی بڑی بڑی اونچی بلڈنگز ، سی این ٹاور اور انٹاریو لیک کے کنارے پر بیلی بشپ ائیر پورٹ کے رن وے ( Runway) پر اترے چڑھتے جہازوں کا منظر دیکھتے رہیے یہ چھوٹا ائیرپورٹ زیادہ تر اندرون ملک پروازوں کے لئیے استمال ہوتا ہیے ،اس کا رن وے بلکل جھیل کے کنارے سے شروع ہوتا ہیے، لینڈنگ کرتے وقت ایسے لگتا ہیے کہ جہاز بس آب پانی میں اترنے لگا ہیے۔۔کافی دیر وہاں
نہانے اور منظر دیکھنے کے بعد آگے ایک جزیرے کی طرف گئیے۔کافی فئیریز اور پرائیویٹ پیرا گلائیڈرز وہاں پر اپنے شوق پورا کر رہیے تھے ۔ سی این ٹاور ٹورنٹو ،ڈون ٹاؤن کی شان ہیے۔کچھ دن پہلے ہم اس سی این ٹاور کا بھی وزٹ کر چکے ہیں۔ سی این ٹاور جس کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 1815 فٹ ہیے جو کہ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ برج خلیفہ سے 900 فٹ کم ہیے جس کی اونچائی 2717 فٹ ہیے۔اور کل 116 منزلیں ہیں۔ایک منزل گھومتی بھی ہیے جس کی فلور شیشے کی بنی ہیے تا کہ پورے ٹورنٹو کا نظارہ کیا جا سکے۔
لفٹ کے ذریعے ٹورنٹو کے سب سے اونچے ریسٹورنٹ جس کی اونچائی 1115 فٹ ہیے تک جایا جا سکتا ہیے جہاں سے اپ پورے ٹورنٹو کا خوبصورت نظارہ کر سکتے ہیں۔فیری کے ذریعے ہم سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنے کے لئیے لیک انٹاریو میں مغرب کی طرف گئیے جہاں سے دور جھیل میں سانتا ہوا سورج کسی سونے کے گول تھال کی مانند سنہری آسمان اور جھیل کے اندر سورج کا عکس بھی دلفریب تھا۔بہت سارے لسیاح اپنی اپنی کشتیوں پر یہ منظر دیکھا رہیے تھے۔جب بھی کبھی آپ میں سے کسی کو ٹورنٹو آنے کا موقع ملے تو یہ منظر دور دیکھیں۔اس کے بعد وہاں سے داون ٹاؤن کی بلند و بالا آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتوں میں رات کی روشنی کا دلفریب منظر دیکھا جو واقعی ہی بہت سوہانا تھا۔