پاکستان سے مکہ کا سڑک کے ذریعے سفر

 سید حافظ دانیال احمد

مکہ معظمہ کی طرف بذریہ سڑک سفر محض ایک سفری تجربہ نہیں، یہ دل کی کسی گہری دھڑکن، روح کی کسی دیرینہ صدا اور تاریخ کی کسی تابندہ روایت کا تسلسل ہے۔ یہ وہی راستہ ہے، جس پر کبھی قریش کے قافلے تجارت کے لیے نکلتے تھے اور پھر اسی خطے پر انبیائے کرام کے قدموں کی گرد بسی۔ آج بھی اگر کوئی شخص زمینی راستے سے حرمین کی طرف روانہ ہو تو اس کا ہر میل، ہر موڑ اور ہر سرحد ایک نئی معنویت کا دریچہ کھولتی ہے۔
پاکستان سے مکہ کا سڑک کے ذریعے سفر تقریباً چار ہزار کلومیٹر پر محیط ہے، جو نہ صرف جسمانی مشقت بل کہ ذہنی وروحانی آمادگی کا تقاضا کرتا ہے۔ عمومی راستہ کراچی یا لاہور سے شروع ہو کر تافتان کے مقام پر ایرانی سرحد میں داخل ہوتا ہے۔ وہاں سے زاہدان، کرمان، یزد، اصفہان اور تہران جیسے تاریخی شہروں کو چھوتا ہوا مسافر خلیجی عرب ریاستوں کی طرف بڑھتا ہے۔ ایران سے کویت، عراق یا عمان کے راستے سعودی عرب میں داخل ہونے کے کئی ممکنہ راستے موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی ایک جدا کہانی رکھتا ہے۔
اس سفر کا حسن صرف اس کے مناظر یا مقامات میں نہیں، بلکہ اس میں پوشیدہ وہ روحانی واردات ہے، جو ہر مسافر کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ صحراؤں کی خامشی، پہاڑوں کی سنجیدگی، بارڈر اسٹیشنوں کی بے نیازی، اور راستے میں ملنے والے اجنبیوں کی مہمان نوازی۔ یہ سب مل کر ایک ایسا تجربہ تخلیق کرتے ہیں، جو عمر بھر یاد رہتا ہے۔تاہم یہ سفر مکمل تیاری کا طالب ہے۔ ویزا، اجازت نامے، بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس، گاڑی کی مکمل جانچ اور راستے کی معلومات کے بغیر نکلنا دانش مندی نہیں۔ کئی دین دار افراد قافلے کی صورت میں سفر کرتے ہیں، جس سے راستے کی دشواریاں بھی آسان ہو جاتی ہیں اور دلوں کا میل بھی بڑھتا ہے۔
بہ ذریعہ سڑک مکہ جانا، گویا ایک روحانی ریاضت ہے، جس میں قدم قدم پر عشق آزمائش لیتا ہے اور آخر کار جب خان کعبہ کی پہلی جھلک نگاہوں میں اْترتی ہے تو ساری مشقتیں گویا عنبر بن کر سانسوں میں گھل جاتی ہیں۔