ادینہ سہیل
زندگی کسی کی آسان نہیں ہوتی- دنیا میں آئی اس ننھی جان سے لے کر قبر میں پاؤں لٹکے اس بوڑھے شخص تک ہر کوئی مشکلات مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کر رہا ہوتا ہے- مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم محض اپنے مسائل میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ سامنے کھڑے اس شخص کی بے بسی ہمیں نظر نہیں آتی- ہم ایک امیر انسان کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ اس کو کیا ہی پریشانی ہوگی؟ مگر کیا پریشانیاں آزمائشیں دولت اور خوبصورتی کی محتاج ہوتی ہیں؟ نہیں بلکہ وہ تو مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں- یہ خوبصورتی، دولت، شہرت صرف انسان کو ہی متاثر کر سکتی ہے، قسمت نصیب مشکلات سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا-
ہر کوئی اپنی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے- کوئی رات کی ان گہری سوچوں سے، کوئی خوابوں سے، کوئی اپنائیت میں گھوپے گئے خنجروں سے، کوئی تلخ لہجوں سے۔۔۔۔ مگر جب تک ہم کسی کی جگہ پر نہیں ہوتے ، ہم اس کا درد محسوس نہیں کر سکتے- کچھ تکلیفوں میں سامنے کھڑے شخص کے ہمدردی کے دو بول بھی آپ کو مضبوط کر دیتے ہیں مگر کبھی کبھی آپ کو ساتھ اور سہارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے- کیونکہ کہنا آسان ہوتا ہے مگر سہنا بہت مشکل ہوتا ہے-جب انسان کا کوئی ساتھ نہیں دیتا ہر طرف سے مایوسی مل رہی ہوتی ہے تو ایک عمر آتی ہے جب انسان کی عقل اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ بے شک اس ذات کے سوا کوئی نہیں جو میرا سہارا بنے، جو میری باتیں سنیں- وہ باتیں جو زبان تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دی جاتی ہیں... وہ تکلیفیں جو مجھے اندر سے کھا کر ختم کر رہی ہے- ماضی کی وہ یاد، وہ اذیت جو مجھے اندر سے کھوکلا کر رہی ہے-پھر انسان رب سے دوستی کر لیتا ہے اور رب سے دوستی کے بعد پھر اسے مزید کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی- وہ لوگوں سے شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ لوگ تو صرف مذاق اڑا کر تماشہ بناتے ہیں جبکہ اللہ تو ہمیں تھام لیتا ہے- وہ ایسے سمیٹ لیتا ہے کہ پھر کوئی چیز ہمیں توڑ نہیں سکتی- وہ پھر اپنے سوا کسی کے آگے گرنے نہیں دیتا- دنیا کی ٹھوکریں انسان کو اللہ سے ملوا دیتی ہیں- پھر فرض نماز تو کیا تہجد بھی مشکل نہیں لگتی، موت سے محبت ہو جاتی ہے اور روح پرسکون ہو جاتی ہے-