گولف ویلنگٹن کاؤنٹی---ایک خوبصورت شہر

محمد افضل شاھد
ہم کوئی لکھاری تو نہیں لیکن تھوڑا بہت حقیقت پر مبنی واقعات اور قدرتی ماحول ،انتظامیہ کے معاملات، فلاح کاموں،اپنے تجربہ اور رہن سہن بارے عموماً  لکھتا رہتا ہوں، میں آج کل کینیڈا کے مشہور شہر ٹورنٹو کے نزدیک ایک بہت ہی خوبصورت شہر گولف میں ہوں۔گولف ویلنگٹن کاؤنٹی میں واقع ہیے اور اس کی آبادی تقریباً  1500000 لاکھ کے قریب ہیے۔میں نے یہاں بہت کچھ دیکھا اور یہاں کی بہت ساری اچھی باتوں کو نوٹ کیا ،یہاں کی تازہ ہوا قدرتی ماحول  اور خوبصورت پارکس اور درختوں سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔گولف کا موسم اور گھروں کا اندرونی۔ماحول بہت انسان دوست ہوتا ہیے ، مکمل طور پر ٹھنڈے اور گرم کا پورا انتظام ہوتا ہیے۔گرمیوں میں درجہ حرارت 25-30 درجہ حرارت رہتا ہیے۔سردیوں میں درجہ حرارت منفی 20 تک بھی چلا جاتا ہیے، لیکن یہاں گھروں، دکانوں، مالز اور زیادہ تر عمارتوں میں Central Air Conditioning کا انتظام ہونے کی وجہ سے باہر کے موسم کا اندرونی زندگی پر اتنا براہِ راست اثر محسوس نہیں ہوتا۔مطلب باہر گرمی ہو یا سخت سردی اندر آپ کو نسبتاً ٹھنڈا اور آرام دہ ماحول ملے گا۔ سردیوں میں یہی Central System ،heating کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔یہ شہر ٹورنٹو سے ویسے تو چھوٹے چھوٹے سائیڈ والی سڑکوں سے بھی جڑا ہوا ہیے لیکن یہاں سے دو بڑی ہائی ویز 401 اور 407 سے بھی جڑا ہوا ہیے۔یہاں کے ہائی ویز بہت ہی آرام دہ اور کھلے ہیں جہاں جگہ جگہ ایگزٹ بنے ہوئیے ہیں جن کو کلیکٹر  کہتے ہیں اور یہ ہر شہر جگہ بڑے بڑے مراکز ،ائیر پورٹس کو ملاتے ہیں کہیں کہیں جہاں زیادہ رش ہوتا ہیے وہاں پر ان ہائی ویز کی چوڑائی اور یکطرفہ لیں کی تعداد چھ یا سات بھی ہو جاتی ہیے جو کہ ٹریفک کے نظام کو خود بخود کنٹرول کرتیں ہیں۔یہاں چونکہ سیدھے ہاتھ کی ڈرائیونگ ہیے اس لئیے  پاکستان کی مخالف میں سڑک کی انتہائی دائیں لائیں کلیکٹر / ڈیوائیڈر یا ایگزٹ کے لئیے استمال ہوتی ہیے۔پھر کم رفتار والی ٹریفک پھر بڑی گاڑیاں اور پھر تیز گاڑیاں بعض جگہ پر اب سے انتہائی بائیں لین دو افراد یا اس سے زیادہ کے لئیے استمال ہوتی ہیے۔سڑجقں پر کسی کو کوئی جلدی نہیں ہر کوئی اپنی اپنی لین میں چلتا ہیے۔کوئی انڈیکیٹر دے تو پچھلے والا فوراً  اس کے لئیے راستہ دے دیتا ہیے اس سے دور نہیں لگاتا۔۔یہی یہاں کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئیے کافی ہیے۔یہاں کی ایک بہت نمایاں بات یہاں کی کشادہ سڑکیں شہری پھیلاؤ ہے۔ہیے اور سڑکوں پر چلنے والوں کا تحمل۔برداشت اور قوانین کی پاسداری ہیے۔یہاں عام طور پر "گلی" یا "سڑک" کے بجائے Street, Road, Drive, Avenue, Boulevard اور Highway جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ کئی سڑکیں اتنی کشادہ ہیں کہ جیسے ہمارے موٹر ویز یا اس سے بھی زیادہ چوڑی ہیں۔اور ایک دلچسپ فرق یہ بھی محسوس ہوا کہ یہاں گاڑیاں عموماً بڑی ہیں۔ بڑی SUVs، Pick-up Trucks اور بڑے خاندانوں کے لیے موزوں گاڑیاں عام نظر آتی ہیں۔شہر ایک جگہ جمع نہیں، بلکہ بہت دور تک پھیلا ہوا ہے‘پاکستان میں خصوصی  طور لاہور کو دیکھا جائیے تو بہت سے علاقے نسبتاً گنجان آباد ہیں۔ ایک ہی علاقے میں گھر، دکانیں، بازار، اسکول، ورکشاپس اور مختلف کاروبار ورکشاپس مالز ہیں لیکن یہاں پر مخصوص  کمرشل ایریاز کے علاوہ ابادی والے علاقوں میں یہ چیزیں نظر نہیں اتیں۔
یہاں رہائشی علاقوں کو اکثر Subdivision کہا جاتا ہے۔ ایک Subdivision میں متعدد گھر ہوتے ہیں اور عام طور پر سڑکیں صاف ستھری، منظم اور مخصوص layout کے مطابق بنی ہوتی ہیں۔جگہ جگہ پارکس اور بچوں اور کے لئیے لائبریریز سوئمنگ پولز ،پلے ایریاز بنے ہوئیے ہیں ، پارکنگ کا بہت ہی اچھا انتظام۔ہیے۔۔ہر چھوٹی بڑی سڑک پر پیدل چلنے والوں کے لئیے فٹ پاتھ اور روڈ پر باقاعدہ مارک کی ہوئی کراسنگ ہوتی ہیے۔روڈ کراس کرنے کے لئیے بچوں کا اور پیدل چلنے والوں بہت خیال۔کیا جاتا ہیے۔بچہ کراس کر رہا ہو تو دور سے ہی گاڑی کو روک لیتے ہیں۔فائیر برگیڈ ،ایمبولینسز اور اسکول کی بسوں کو بہت زیادہ سہولیات ہیں ان کی لئیے فوراً جگہ چھوڑ دی جاتی ہیے یا گاڑی روک کر ان کو راستہ دیا جاتا ہیے۔یہی مہذب معاشرے کی پہچان ہیے۔یہاں رہائشیوں کے علاقوں کا بہت خیال۔رکھا جاتا ہیے ‘یعنی یہاں کا تصور کچھ ایسا ہے کہ ایک بڑا علاقہ ہے، اس کے اندر کئی رہائشی communities ہیں، اور پھر ان کے اردگرد مختلف commercial areas موجود ہیں۔پریس اتنے زیادہ ہیں کہ ہر گلی ہر تقریبا کوئی نا کوئی پارک لگتا ہیے۔۔مزے کی بات یہ ہیے کہ ان پریس کو لوگ استمال کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ خیال۔بھی رکھتے ہیں۔میں نے ہمارے گھر کے سامنے والے پارکس میں کئی بار دیکھا ہیے کہ گورے اپنے کتوں کے ساتھ واک کرتے ہیں ایک ہاتھ میں کتے کی دوری دوسرے ہاتھ میں دو تین شاہد ساتھ ساتھ رکھتے ہیں ایک میں کتے کے کھانے پینے کا بندوبست، ساتھ ایک شاہد میں چلتے چلتے روڈ پارک ، ٹریک پر کوئی کاغذ، کوئی بوتل کوئی چیز اٹھاتے جاتے ہیں اور پھر اسے مختلف جگہ رکھے گئیے کچرا کے ڈبوں میں ڈالتے ہیں۔کوئی محسوس نہیں کرتا کہ وہ پارکس یا روڈ پر سے یہ چیزیں اٹھا رہا ہواس کے بر عکس ہم پاکستان میں پارکس اور روڈز پر خوب کچرا پھینکتے ہیں صفائی تو دور ہم خود گند پھیلاتے ہیں۔اور کچرا اٹھانے میں بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ایک اور چیز جو مجھے خاص طور پر دلچسپ لگی وہ یہ ہے کہ اکثر رہائشی علاقوں سے کچھ ہی فاصلے پر Shopping Centers, Grocery Stores, Restaurants, Pharmacies اور دوسری ضروری سہولیات موجود ہوتی ہیں۔یعنی روزمرہ کی خریداری کے لیے ہمیشہ شہر کے کسی بڑے مرکزی بازار جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔یہاں کی  ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں مختلف قومیتوں کے لوگ رہتے ہیں۔ اس وجہ سے Asian, Indian, Pakistani, Middle Eastern اور دوسری cuisines آسانی سے مل جاتی ہیں۔حلال کھانے کے options بھی کافی جگہوں پر موجود ہیں۔ پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی grocery stores سے لے کر restaurants تک، دیسی کھانے اور روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیاء￿  آسانی سے مل جاتی ہیں۔اس لحاظ سے گولف میں رہنے والے پاکستانیوں کو کراچی سے بہت دور ہونے کے باوجود کھانے پینے کے معاملے میں ایک مانوس ماحول مل جاتا ہے۔یہاں پر مساجد اور مسلم کمیونٹی بھی کافی بڑی ہے۔ شہر اور اس کے مختلف علاقوں میں متعدد مساجد اور Islamic Centers موجود ہیں۔اس لیے نماز، جمعہ، رمضان، عید اور دوسری مذہبی سرگرمیوں کے لیے مسلمانوں کو کافی سہولت میسر ہے۔ مختلف علاقوں میں پاکستانی، انڈین، عرب اور دوسری مسلم کمیونٹیز بھی نظر آتی ہیں۔یہاں ایک اور چیز جو مجھے محسوس ہوئی وہ رہائشی علاقوں کے حوالے سے ہے۔ہم یہ کہ لاہور یا کراچی  میں ہم بعض علاقوں کو مخصوص طبقے یا معاشرتی حیثیت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً بعض جگہوں کے بارے میں عام تاثر ہوتا ہے کہ وہاں صرف ایک خاص طبقہ ہی رہتا
 ہے۔لیکن یہاں گولف کے  رہائشی علاقوں کا تصور کچھ مختلف نظر آتا ہے۔ یہاں مختلف علاقوں میں رہائیش پذیر چھوٹے بڑے گھروں میں اپنے وسائل کے مطابق رہتے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہاں معاشرتی یا معاشی فرق موجود نہیں، لیکن صرف کسی مخصوص علاقے کا نام سن کر کسی عام آدمی کے وہاں جانے یا رہنے کے بارے میں ویسا سماجی تصور نظر نہیں آتا جیسا ہمارے ہاں بعض علاقوں کے بارے میں پایا جاتا ہیے۔یہ سب میرے ذاتی مشاہدات ہیں اور یقیناً ٹورنٹو  کے ہر علاقے میں صورتحال ایک جیسی نہیں۔ میں یہاں مزید کچھ دن رہ کر جو دلچسپ چیزیں دیکھوں گا، ان شاء￿  اللہ وہ بھی آپ سب کے ساتھ شیئر کرتا رہوں گا۔ 

محمد افضل شاھد۔گولف ، ویلنگٹن کاؤنٹی،ٹورنٹو ،کینیڈا 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحت، خوشی اور آسانیاں عطا فرمائے۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ ??