ویٹیکن سٹی میں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے دنیا بھر کے 1.4 ارب کیتھولک عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے مہاجرین اور تارکین وطن کے ساتھ ہمدردی، محبت اور مساوی برتاؤ کی پرزور اپیل کی۔
پوپ لیو نے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا، جس میں 95 ممالک سے 10 ہزار سے زائد زائرین نے شرکت کی۔ یہ تقریب کیتھولک چرچ کے ’سالِ مقدس‘ (Holy Year) کے موقع پر مہاجرین کے نام منعقد کی گئی تھی۔اپنے خطاب میں پوپ لیو نے کہا کہ"مہاجرین کے ساتھ سرد مہری یا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں اپنے بھائی بہنوں کی طرح خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔"انہوں نے مزید کہا کہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے دل اور دروازے مہاجرین کے لیے کھولیں، ان کے لیے امید، تسلی اور یکجہتی کا ذریعہ بنیں۔پوپ نے کسی ملک کا نام لیے بغیر نشاندہی کی کہ بعض ممالک کی امیگریشن پالیسیاں انسانی ہمدردی کے اصولوں سے متصادم ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو چرچ کی تعلیمات کے خلاف قرار دیا تھا۔پوپ لیو نے کہا کہ چرچ اس وقت "ایک نئے تبلیغی عہد" سے گزر رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں تشدد، ظلم یا غربت سے فرار حاصل کرنے والے مہاجرین کو پناہ، محبت اور احترام فراہم کرنا ہے۔ویٹیکن کے مطابق، پوپ کا یہ پیغام عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی ہمدردی اور معاشرتی انصاف کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے، تاکہ دنیا بھر کے عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے مہاجرین کے مسائل کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے میں کردار ادا کریں۔