26ویں ترمیم کے وقت بھی کہا تھا یہ عوام کے مفاد میں نہیں، حافظ نعیم

26ویں ترمیم کے وقت بھی کہا تھا یہ عوام کے مفاد میں نہیں، حافظ نعیم

 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے 26 ویں ترمیم کے دوران بھی اس کے خلاف آواز بلند کی تھی کیونکہ انہیں یہ ترمیم عوام کے مفادات کے منافی لگتی ہے۔

 انہوں نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ جماعت اسلامی قرآن اور سنت کے علاوہ کسی قانون کو تسلیم نہیں کرتی، اور اگر کوئی قانون اس کے خلاف ہو تو اسے عدالتوں میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتیں ان کے اپنے بنائے ہوئے نظام کے تحت کام کرتی ہیں، اس لیے ان پر اعتراضات کا اظہار ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب فارم 47 کے ذریعے حکومت بنائی جائے گی، تو اس سے جمہوریت کا اصل مقصد متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عدالتوں پر قدغن لگائی جائے گی، تو لوگ اپنی مرضی کی عدالتیں بنالیں گے، جو نظام انصاف کے لیے نقصان دہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی واضح کیا کہ جب انصاف کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں، تو عوام اپنی آواز کو بلند نہیں کر پاتے، اور اس طرح عوام تک صحیح پیغام پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف اور قانون کی بالادستی سب کے لیے ضروری ہے تاکہ جمہوریت مضبوط رہے اور عوام کو حقائق تک رسائی حاصل ہو۔