امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی بعض شقیں آئین اور شریعت سے متصادم ہیں، اس لیے جماعتِ اسلامی ان ترامیم کو مسترد کرتی ہے۔
ہائی کورٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ان ترامیم کے وقت بھی جماعتِ اسلامی نے واضح مخالفت کی تھی، تاہم کسی بڑی سیاسی جماعت نے مؤثر انداز میں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔انہوں نے کہا کہ آئین سے متصادم ترامیم کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہو سکتی، جبکہ ججز کے حالیہ تبادلے عدلیہ کی آزادی پر براہِ راست حملے کے مترادف ہیں۔امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور وقتی سیاسی فائدے ہمیشہ قائم نہیں رہتے، اس لیے ریاستی اداروں کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے تعلیم کے شعبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امیر اور غریب کے لیے الگ الگ تعلیمی معیار کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک کے 44 فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 24 سے 25 لاکھ مقدمات عدالتوں میں زیرِ التواء ہیں، ایسے حالات میں عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکول نجی افراد کے حوالے کیے جا رہے ہیں، اختیارات چند ہاتھوں میں محدود ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کے انتخابات یا تو کرائے نہیں جا رہے یا پھر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے۔