ڈکی بھائی کے جسمانی تشدد کا انکشاف، افسران نے عہدے چھوڑ دیے

ڈکی بھائی کے جسمانی تشدد کا انکشاف، افسران نے عہدے چھوڑ دیے

 یوٹیوبر ڈکی بھائی کے حوالے سے ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا اور خبری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

 آرتھوپیڈک سرجن اور تجزیہ نگار ڈاکٹر عمر عادل نے ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دورانِ حراست، ڈکی بھائی کے ساتھ جسمانی تشدد کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تشدد کے نتیجے میں ان کی کمر پر نیل پڑ گئے ہیں، جو کہ جسمانی تشدد کی واضح نشانی ہے۔ڈاکٹر عمر عادل کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ بات اس وقت دیکھی اور محسوس کی جب وہ ارشاد بھٹی کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران موجود تھے۔ اس موقع پر، ڈکی بھائی نے اپنی والدہ اور اہلیہ کے سامنے، ممکنہ دباؤ کے باعث، یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی طرف سے کسی بھی تشدد کی تردید کی، لیکن ڈاکٹر عمر عادل کا مؤقف ہے کہ اگر وہ حقیقت بتاتے، تو انہیں مزید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا۔

دوسری طرف، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ذرائع کے مطابق، اس کیس سے وابستہ سات افسران نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ حساس اور پیچیدہ نوعیت کا ہے، جس میں حکومتی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔یہ سب بیانات اور انکشافات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس کیس میں کئی پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، اور اصل حقائق سامنے آنے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔