ویب ڈیسک: لاہور کی مقامی عدالت نے سوشل میڈیا پر جوئے کی ترغیب دینے اور فحش مواد اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کا جسمانی ریمانڈ چار دن کے لیے بڑھا دیا ہے۔
ملزم کو 17 اگست کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ڈکی بھائی نے اپنے یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کئی غیر رجسٹرڈ جوا ایپلیکیشنز کی تشہیر کی، جس سے عوام کو مالی نقصان پہنچا۔ملزم کے موبائل فون سے حاصل شدہ واٹس ایپ چیٹس اور ادائیگیوں کے ثبوت بھی برآمد ہوئے ہیں، جو ان کے جوا ایپلیکیشنز کے ساتھ تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں۔ تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ ڈکی بھائی اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی اجازت کے بغیر ایک جوا ایپلیکیشن کے لیے ’کنٹری مینیجر‘ کے طور پر کام کر رہے تھے۔
لاہور کی عدالت نے 19 اگست کو ڈکی بھائی کا جسمانی ریمانڈ چار دن کے لیے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ تفتیشی افسر شعیب ریاض نے عدالت سے ملزم کے 28 دن کے ریمانڈ کی درخواست کی تھی، جس میں کہا گیا کہ ملزم مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی جوا گروہ کا رکن ہے اور مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کے جسمانی ریمانڈ کو 23 اگست تک بڑھا دیا۔ ملزم کو ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔